رسائی کے لنکس

لیاری گینگ وار میں ملوث جرائم پیشہ افراد کے سروں کی قیمت مقرر


بابا لاڈلا اور عزیر جان کے سر کی قیمت30، 30 لاکھ ررپے رکھی گئی ہے ۔ یہ رقم باقی افراد کے سروں کی قیمت کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اصل میں یہ دونوں گینگ وار کے سرغنہ افراد میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ الیاس پپوکے سر کی قیمت 20 لاکھ،زمان محسود 25 لاکھ،خیر محمد کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے جبکہ ملزم ریکھا کی سرکی قیمت 15 لاکھ اور ابراہیم کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے ۔

کراچی کے علاقے لیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف پانچ روز سے جاری آپریشن کے حوالے سے یوں لگتا ہے کہ گویا یہ آپریشن حتمی ہوگا۔ ایک جانب سے اس آپریشن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جارہی ہے تو دوسری جانب منگل کو لیاری گینگ وار میں ملوث ملزمان کے سروں کی قیمت مقرر کردی گئی ہے۔مقامی میڈیا نے خبری دی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ملزمان کے سروں کی قیمت کی منظوری دی ۔

بابا لاڈلا اور عزیر جان کے سر کی قیمت30، 30 لاکھ ررپے رکھی گئی ہے ۔ یہ رقم باقی افراد کے سروں کی قیمت کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اصل میں یہ دونوں گینگ وار کے سرغنہ افراد میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ الیاس پپوکے سر کی قیمت 20 لاکھ،زمان محسود 25 لاکھ،خیر محمد کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے جبکہ ملزم ریکھا کی سرکی قیمت 15 لاکھ اور ابراہیم کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے ۔

لیاری میں یکم اپریل سے 30اپریل تک مسلسل کشیدگی رہی تاہم آخری ہفتے میں جرائم پیشہ افرادکیخلاف چھٹا آپریشن شروع کیا گیا ہے جس میں اب تک چھ پولیس اہلکار سمیت چوبیس افرادجاں بحق اورسوسے زائد افرادزخمی ہیں۔پولیس دعوی کے مطابق گینگ وار میں ملوث تین افراد مارے گئے جبکہ 26اپریل کوپیپلزپارٹی کے مقامی ارہنما ملک محمد خان اورسی آئی ڈی اہلکارجرائم پیشہ افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔

ادھر پیر اور منگل کی درمیانی شب پولیس پر راکٹ اور دستی بم حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ لی مارکیٹ میں دستی بم حملے میں دس افراد زخمی ہوگئے۔ چیل چوک پولیس بوریوں کی مدد سے مورچے بنا رہی ہے۔ نوا لین، افشانی ،گل محمد لائن،گبول پارک اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ جرائم پیشہ افراد فائرنگ اور راکٹ حملے کرتے ہیں تو پولیس چیل چوک اور اس کے اطراف تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔

پولیس کا موقف ہے فائرنگ کے تبادلے میں کئی جرائم پیشہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ان کے ساتھی لاشیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

تیسری جانب لیاری آپریشن کے خلاف منگل کو گارڈن اور گولیمار میں احتجاج ہوا۔ مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردی۔ کھارادر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جبکہ حب میں لیاری آپریشن کے خلاف آج شٹر ڈاوٴن ہڑتال رہی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG