رسائی کے لنکس

بلدیاتی نظام سے متعلق مذاکرات پیش رفت کے بغیر ختم


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

صوبہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام سے متعلق حکمران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان جمعہ کو ہونے والا مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے اور دونوں جماعتوں نے مزید مشاورت کے لیے اجلاس ہفتہ تک ملتوی کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 4 نومبر کی نصب شب سے پہلے دونوں جماعتیں نئے بلدیاتی نظام پر متفق نہ ہوئیں تو 5 نومبر سے پرانا بلدیاتی نظام و کمشنری نظام از خود بحال ہو جائے گا۔ جب کہ 7 نومبر سے ہی ملک میں عید کی تعطیلات بھی ہیں۔

اس سے قبل یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں جماعتیں جمعہ کو نئے نظام کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں گی اور ہفتہ کو گورنر سندھ عشرت العباد نیا آرڈیننس جاری کریں گے۔

صوبہ سندھ میں رواں سال کے وسط میں ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے دوران صوبائی حکومت نے 2001ء کا ضلعی حکومتوں کا نظام ختم کرکے 1879ء کے بلدیاتی اور پرانے کمشنری نظام کو بحال کر دیا تھا، تاہم ایم کیو ایم کی حکومت میں دوبارہ شمولیت کے بعد گورنر سندھ نے ایک بار پھر ضلعی حکومتوں کا نظام رائج کرکے اگست 2011 میں ایک آرڈیننس جاری کیا جس کی 90 روز کی مدت 4 نومبر کو رات 12 بجے ختم ہو رہی ہے۔ اٹھاریوں ترمیم کے تحت گورنر ایک آرڈیننس 90 دن کے لیے ایک بار ہی جاری کر سکتے ہیں لیکن دوسری بار وہ آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا۔

دونوں جماعتوں کے درمیان اب تک مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے دو مرتبہ مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ اگرچہ دونوں جماعتیں بلدیاتی نظام سے متعلق نیا نظام لانے پر متفق بھی ہیں لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں جانب سے بعض شقوں پراختلافات برقرار ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمیشہ اپنی شرائط پر مختلف حکومتوں کا حصہ بننے والی ایم کیو ایم اس بار کچھ پریشانی کا شکار ہے اور پہلی بار اپنی کچھ مجبوریوں کی وجہ سے کئی اختلافات کے باوجود حکومت کی سب سے بڑی حلیف جماعت ہونے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس نے اس کا ایک عملی مظاہرہ 30 نومبر کو کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی حمایت میں ایک بڑی ریلی نکال کر کیا ہے لیکن ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے بقول ایسا جمہوری نظام کو بچانے کے لیے کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد میں سب سے زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والی جماعت ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں پرانے بلدیاتی نظام کے بحال ہو جانے سے اس کا ووٹ بینک متاثر ہونے کا خدشہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم اس نظام کی شدید مخالفت کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG