رسائی کے لنکس

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر کو ’ال نینو‘ کا سامنا ہے۔ آئندہ سالوں میں سردی یہاں سے بوریا بستر ہی لپیٹ لے گی، مگر گرمی ہر سال بڑھے گی۔ اس سال سابقہ ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں ۔۔وجہ ہے اونچی عمارتوں کی کثرت، درختوں کی کمیابی اور۔۔۔

کراچی سے ’برائے نام‘ سردی کا موسم بھی تقریباً سمٹ ہی گیا۔ فروری کا مہینہ شروع ہوچکا ہے، لیکن نہ نومبر میں سردی کی تیز لہر آئی نہ دسمبر میں کسی کو ٹھٹھرتے دیکھا گیا۔ کہا گیا تھا کہ جنوری میں بارش برسی تو موسم سب کو کپکپانے پر مجبور کردے گا۔ لیکن، اس بار ایسا بھی نہیں ہوا۔

دو تین روز پہلے کوئٹہ میں بارش ہوئی تو حسب روایت آس جاگی کہ اب تو کچھ خنکی موسم میں آہی جائے گی۔ لیکن، کچھ بھی نہیں ہوا اور اس بار سردیوں کا موسم’ یونہی‘ گزر گیا۔

سردی کی یہ بے رخی صرف کراچی والوں کے لئے تھی ورنہ پور املک معمول کے مطابق شدید سردی کی لپیٹ میں رہا۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہروں سے سرد موسم ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ ’ال نینو‘ ہے۔

محکمہٴ موسمیات کراچی کے سابق چیف میٹرولوجسٹ، توصیف عالم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ”پاکستان کو ’ال نینو‘ کے اثرات کی وجہ سے خشک موسم کے نقصانات کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس بار کراچی میں سردی کی لہر نہیں آسکی۔‘‘

موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین ڈاکٹر پرویز عامر، سابق ڈی جی موسمیات اور ماہر ماحولیات قمر الزماں چوہدری کا کہنا ہے کہ ”ال نینو موسمیاتی تبدیلی کی ہی ایک شکل ہے جس کے مضر اثرات کی وجہ سے موسم اپنے معمول کے مطابق نہیں رہتے۔ اس کی واضح مثال کراچی ہے جہاں اس سال ان مہینوں میں بھی سردی پوری طرح نہیں پڑ سکی جن میں اب تک پڑتی آئی ہے۔“

ماہرین شہر قائد کے رہنے والوں کے سر پر منڈلاتے اس خدشے کی جانب بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ’ال نینو‘ کے سبب کراچی میں سرد موسم بتدریج کم اور گرم موسم بتدریج زیادہ ہوتا جائے گا۔

نئے سال میں گرمی غضب ڈھائے گی!
پاکستان کا محکمہٴ موسمیات اور ماحولیات پر تحقیق کرنے والے کچھ عالمی ادارے سال 2015کو اب تک کا گرم ترین سال قرار دے چکے ہیں۔ تاہم، ان کی یہ بھی پیشگوئی ہے کہ نیا سال، یعنی 2016 پچھلے سال پڑنے والی گرمی کا بھی ریکارڈ توڑ دے گا خاص کر کراچی میں جہاں جون میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی سے 1200سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

کراچی میں گرمی کے غضب کی وجہ یہاں کا محل وقوع ہے۔ توصیف عالم کے مطابق، ”کراچی میں اونچی عمارتیں بے ہنگم ٹریفک کی طرح ہر روز بڑھ رہی ہیں۔ ان عمارتوں کے سبب ہوا کی آزادانہ آمد و رفت تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ال نینو بننے کی بڑی وجوہات میں کوئلہ، ڈیزل اور پیٹرول کا بطور ایندھن استعمال، کارخانوں، فیکٹریوں اور سب سے زیادہ انگنت گاڑیوں کے کاربن ڈائی آکسائیڈ بھرے دھویں نے آکسیجن کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔“

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ فضا میں کاربن کو ختم کرنے اور آکسیجن کی تعداد بڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں۔ اگر وافر مقدار میں درخت ہوں تو گرمی کی ہلاکت خیزی کم کی جاسکتی ہے۔ لیکن، افسوس شہر قائد میں درخت کی تعداد بھی دن بدین گھٹ رہی ہے۔ درخت بارش لانے کا سبب بھی ہیں۔ لیکن، جہاں ال نینو موجود ہو وہاں گرم پانی بھاپ کی شکل میں اوپر اٹھتا ہے، لیکن بادل نہیں بنتے اس لئے بارش بھی نہیں ہوتی ۔۔لیکن موسم گرم ہوجاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG