رسائی کے لنکس

لیاری میں سرجیکل آپریشن کی کوشش ناکام


لیاری میں سرجیکل آپریشن کی کوشش ناکام

لیاری میں سرجیکل آپریشن کی کوشش ناکام

کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے لئے مختلف علاقوں میں سرجیکل آپریشن کیا جارہا ہے تاہم اسی شہر قائد کا ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں عوام نے ناصرف اپنے احتجاج سے پولیس اور رینجرزکو سرجیکل آپریشن سے روک دیا بلکہ اسے علاقے میں گھسنے ہی نہیں دیا۔

واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری سرجیکل آپریشن کی غرض سے لیاری کے مختلف علاقوں آگرہ تاج کالونی، شاہ عبداللطیف بھٹائی روڑ، مرزار آدم خان روڈ، ٹینری روڈ، چیل چوک، سنگولین، عیدولین، افشانی گلی اور بکرا پیڑی کے قریب پہنچی ۔ اسی دوران علاقہ مکینوں کوممکنہ آپریشن کی خبر لگ گئی۔

آناً فاناً مکینوں کی اچھی خاصی تعداد احتجاج کرتی اور نعرے لگاتی ہوئی رینجرز کے قریب پہنچ گئی حتیٰ کہ مکینوں کے احتجاج پر رینجرز کی گاڑیاں میرا ناکہ پل پر کھڑی ہوگئیں جبکہ آگرہ تاج کالونی، جونا مسجد، ہنگورہ آباد اور آٹھ چوک پر بھی رینجرز کی نفری محدود ہوگئی۔

اسی دوران احتجاج کی غرض سے ریلی میں شریک خواتین نے ٹینری روڈ ،چیل چوک، لی مارکیٹ اورسالار کمپاؤنڈ سمیت متعدد علاقوں میں ٹائرجلانا شروع کردیئے۔ کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ علاقہ مکینوں کی جانب سے پولیس اور رینجرز پر پتھراوٴ بھی شروع کردیا گیا۔ ادھر آگرہ تاج کالونی میں نامعلوم افراد نے رینجرز کے آپریشن کے ارادے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مزاحمت کی اور فائرنگ شروع کردی۔

پولیس اور رینجرز نے اپنے بچاوٴ میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری مجبوراًواپس لوٹ گئی۔

یہ واقعہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ ایک جانب جہاں ارباب اختیار پولیس اور رینجرز کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے لئے کافی سمجھتے ہیں وہاں انہی قانون نافذ کرنے والے نیم فوجی دستوں پر عوام نے ہتھیار تان لئے اور پولیس کو" مصلحت "سے کام لینا پڑا۔

اس تمام صورتحال پر لیاری ہی کے ایک مکین ، سینئرسٹیزن اور تجربہ کار صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کچھ نئے پہلووٴں پر روشنی ڈالی جو سوچ کے نئے زاوئیوں کو جنم دیتی ہے اور کئی اہم سوالوں کا جواب بھی ہے۔ فرض کرلیجئے ان کا نام عبداللہ ہے۔ عبداللہ پچھلے تیس چالیس سال سے لیاری میں مقیم ہیں ۔ انہی کی آنکھوں کے سامنے اس بستی نے بے شمار اتار چڑھاوٴ دیکھے اور انہی کے سامنے لیاری کی ایک نسل پل بڑھ کر جوان ہوئی۔

عبداللہ کا کہنا ہے : لیاری بہت گنجان آباد علاقہ ہے۔ یہاں دیوار سے دیوار ملے سینکڑوں مکانات، فلیٹ اور عمارتیں آباد ہیں۔ بعض گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ یہاں کوئی گاڑی داخل ہی نہیں ہوسکتی اور اگر اتفاق سے ہوبھی جائے تو اسے واپسی کا رستہ نہیں مل سکتا۔ یہاں اگر رینجرز اور پولیس آبھی جاتی تب بھی آپریشن کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ کہنے کے لئے تو یہاں مزدور طبقہ، غریب لوگ، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ترستے عام انسان رہتے ہیں لیکن انہی کے ساتھ ساتھ جرائم کے بل پر زندگی کی گاڑی کھینچتے لوگوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں منشیات فروشی، ڈاکا زنی، بھتہ خوری ،جوا، سٹہ، ناجائز ہتھیاروں کی خرید وفروخت اور اسی قسم کے دوسرے جرائم پر پھلنے پھولنے والوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ ہے کہ اسے اسی صورت میں نکلوایا جاسکتا ہے جب فوج ہفتوں یہاں گوریلا جنگ لڑے۔ رینجرز کے اہلکار یہ کر نہیں سکتے ۔وہ تنگ اور گلی در گلی علاقوں سے واقف نہیں۔ ہاں پولیس یہ کام کرسکتی ہے کیوں کہ اسے اس علاقے کے چپے چپے کا پتہ ہے مگراسے اس کام کے لئے نہایت مخلص ہونا پڑے گا۔ پولیس کو مخبروں کا جال بچھانا پڑے گا، شناخت پریڈ کرانا پڑے گی ۔ خفیہ اداروں کو بھی لیاری کے گھنے جنگل میں اترنا پڑے گا تب جاکر یہ علاقہ اسلحہ اور جرائم پیشہ افراد سے پاک ہوگا۔"

عبداللہ کا کہنا ہے کہ یہاں ایک زبان بولنے والے نہیں رہتے بلکہ علاقہ مکین بھانت بھانت کی زبانیں بولتے ہیں۔ غالباً پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کے رہنے والے لوگ لیاری میں آباد ہیں۔ اسلحہ لے کر چلنا یہاں کے نوجوانوں کا جیسے شیوا ہو۔ کون سا ہتھیار اور کون سی بندوق و گولا بارود ایسا ہوگا جو یہاں نہ نظر آتا ہو۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اسی بستی میں سیاسی کارکنوں کی بھی بہت بڑی تعداد آباد ہے جن کے اپنے مفادات ہیں۔ انہی مفادات کے حصول اور بھتہ وصولی کے لئے یہاں گینگ وار ہوتی رہتی ہے۔ گینگسٹرز کی ایک بڑی تعداد بھی لیاری ہی کی باسی ہے۔ پولیس اور رینجرز کو کئی ماہ تک ان تمام افراد کے خلاف بیک وقت کئی محاذ کھولنا پڑیں گے۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جن خواتین ، مرد اور بچوں نے ممکنہ آپریشن کے خلاف احتجاج کیا غالباً ان کا تعلق انہی جرائم پیشہ افراد سے ہے۔ چونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر آپریشن ہوا تو سب سے زیادہ عتاب بھی انہی پر آئے گا لہذا انہوں نے احتجاج کرکے اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو وقتی طور پر ٹال دیا ہے لیکن آپریشن کی اس ناکام کوشش سے بھی ارباب اختیار کو سبق لینا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG