رسائی کے لنکس

عام رائے یہی ہےکہ قانونی اداروں کی طرف سےبچوں کے اغوا کو روکنے اور لاپتہ بچوں کی تلاش کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے

کراچی شہر میں بچوں کی گمشدگی میں اضافہ تشویشناک صورت اختیار کرتا جارہاہے۔

خواتین اور بچوں کے لئے کام کرنےوالی ایک غیر سرکاری تنظیم ’مددگار ہیلپ لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق کراچی شہر میں رواں سال کے 9 ماہ کے دوران 170 بچے لاپتہ ہوئے۔

بچوں کی گمشدگی کےحوالے سے ’مددگار ہیلپ لائن‘ کی رپورٹ کے اعداد و شمار کےمطابق، ماہ جنوری میں 11 ، فروری میں آٹھ، مارچ میں 12 ، اپریل میں 16، مئی میں 21 ، جون میں 29، جولائی میں15، اگست میں 39 اور ستمبر میں 19 بچے لاپتہ ہوئے۔

اِس تازہ رپورٹ کے مطابق، ’ مددگار تنظیم ‘ ماہ جنوری سے ماہ ستمبر تک شہر بھر سے لاپتہ ہونیوالے 170 بچوں میں سےصرف 10 کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ 160 بچے تاحال لاپتہ ہیں، جِن کی بازیابی کے لئے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔عام خیال یہی ہےکہ قانونی اداروں کی طرف سےبھی بچوں کے اغوا کو روکنے اور لاپتہ بچوں کی تلاش کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے۔

مددگار تنظیم کے مطابق جب کسی بچے کے گمشدگی کا کوئی کیس پولیس تھانے میں رپورٹ کیاجاتا ہے، پولیس کا ادارہ بچوں کے کیس میں تعاون نہیں کرتا اور بڑی مشکلوں کے بعد بچے کے لاپتہ یا اغواکی ’ایف آئی آر‘ درج تو کرلیجاتی ہے مگر اس کے بعد اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔

’مددگار ہیلپ لائن‘ کے سربراہ ضیا اعوان کہتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں کی حفاظت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ بچوں کی حفاظت کرنا حکومت اور قانونی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

درحقیقت ہوتا یہ ہے کہ زیادہ تر بچوں کے والدین اپنی مدد آپ کے تحت ہی بچوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG