رسائی کے لنکس

کراچی میں موٹر سائیکل، خوف اور خطرے کی علامت

  • کراچی

پاکستان اور خاص کر کراچی میں موٹر سائیکل عوامی سہولت کی بجائے خوف و خطرے کی علامت بن گئی ہے۔ اسٹریٹ کرائم سے لے کر بینک ڈکیتی اور بم دھماکوں تک ہر جگہ موٹر سائیکل کا استعمال دیکھنے میں آرہا ہے

آئی آئی چندریگر روڈ کے کونے پر واقع خیرآباد ہوٹل سے نکل کر ٹاور کی طرف پیدل جانے والے محمد مبشر کے قریب جیسے ہی عقب سے آنے والی ایک موٹر سائیکل رکی، ان کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔

موٹر سائیکل سوار کم عمر نوجوان تھا۔ اس کے ہونٹوں میں سگریٹ دبی تھی۔

موٹرسائیکل رکتے ہی اس نے دوسرے ہاتھ سے جیب میں رکھا لائٹر نکالا اور سگریٹ سلگا کر دوبارہ تیزی سے آگے کی جانب بڑھ گیا۔

لیکن، اس دوران آئی ٹی کے پیشے سے وابستہ اور کراچی کے دیرینہ رہائشی محمد مبشر کے ذہن میں بہت سے برے خیالات بجلی کی سی تیزی کے ساتھ آتے چلے گئے۔

انہوں نے سوچا شاید اگلے ہی لمحے موٹر سائیکل سوار انہیں ٹی ٹی پستول دکھائے گا، موبائل اور پرس و دیگر قیمتی اشیاء لے گا اور ہوا ہو جائے گا۔۔۔ شکر ہے ایسا نہیں ہوا اور مبشر نے چین کی سانس لی۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے، محمد مبشر کا کہنا تھا: ’چونکہ شہر میں ہر روز موٹرسائیکل پر اسٹریٹ کرائم کے درجنوں واقعات ہوتے ہیں۔ لہذا، اب موٹر سائیکل سوار کے قریب آتے ہی ذہن میں بہت سے سوالات ابھرنے لگتے ہیں، خوف آنے لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے۔ موٹر سائیکل اس شہر میں اب خوف اور خطرے کی علامت بن گئی ہے۔‘

مبشر ہی نہیں شہر کے 99 فیصد لوگوں کا خیال یہی ہے کہ پاکستان اور خاص کر کراچی میں موٹر سائیکل عوامی سہولت کی بجائے خوف و خطرے کی علامت بن گئی ہے۔

اسٹریٹ کرائم سے لے کر بینک ڈکیتی اور بم دھماکوں تک ہر جگہ موٹر سائیکل کا استعمال دیکھنے میں آرہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران کراچی سے لیکر پشاور تک آئے دن ہونے والے واقعات کا بغور جائزہ لیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دہشت گردی کی وارداتوں اور بم دھماکوں کے کم از کم 50 فیصد واقعات میں موٹر سائیکل کو استعمال کیا گیا۔ گویا، یہ دہشت گردوں کا ایک موٴثر ہتھیار بن گئی ہے۔ ۔۔۔مگر کیوں؟

سی آئی ڈی اہلکار محمد زبیر کا وائس آف امریکہ کو اس حوالے سے کہنا ہے کہ، ’ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں موٹرسائیکلوں کا استعمال بہت عام ہے۔ پھر جب سے چین کی سستی موٹر سائیکلیں مارکیٹ میں آئی ہیں جو لوگ گدھا گاڑی یا بیل گاڑی پر بیٹھ کر کھیتوں کوجاتے تھے وہ بھی اب موٹرسائیکلوں کا استعمال کررہے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہروں کی بات کریں تو یہاں دودھ بیچنے والوں سے لیکر بچوں کا سامان بیچنے والے تک موٹر سائیکل استعمال کررہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ صرف ایک ہزار روپے ڈاوٴن پے منٹ کرکے آپ نئی موٹرسائیکل قسطوں پر لے سکتے ہیں جبکہ پندرہ ہزار روپے میں پرانی موٹر سائیکل خریدنا کوئی مشکل نہیں۔ اب ایک گھر میں جتنے مرد ہوتے ہیں اتنی ہی موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں۔ سڑکوں، گلیوں، محلوں اور شاپنگ سینٹرز پرموٹرسائیکلیں ہی موٹر سائیکلیں نظرا ٓتی ہیں۔ اس بہتات کا نقصان یہ ہے کہ دھماکا خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل کب، کون اور کہاں کھڑی کرجائے کچھ پتہ نہیں لگتا۔ اور جب پتہ چلتا ہے تو اس وقت جب یہ دھماکے سے پھٹتی ہے۔‘

گزشتہ ہفتے نصرت بھٹو کالونی میں جو موٹر سائیکل بم دھماکا ہوا وہ نامعلوم دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہی خاموشی سے کھڑی کرکے چلا گیا تھا۔ واقعے میں ہلاک ہونے والے چھ لوگوں میں سے ایک نوجوان، عاقل اسی موٹر سائیکل پر نیم درار اندازبیٹھ کر اپنے دو دیگر بھائیوں سے ہنسی مذاق کررہا تھا۔ اسے خبر بھی نہیں تھی کہ جس موٹر سائیکل پر وہ لیٹا ہے اس میں بارودی مواد بھرا ہے۔

عاقل کے خالہ زاد بھائی عاطف نے وائس آف امریکہ کے نمائندے کو اس حوالے سے مزید بتایا کہ عاقل سمیت اس کے تین خالہ زاد بھائی ویسے ہی انتخابی دفتر کے باہر کھڑی موٹرسائیکلوں پر بیٹھے تھے۔ انہیں دفتر کھلنے کا انتظار تھا،جبکہ علاقے میں لائٹ گئی ہوئی تھی۔ دفتر نو بجے کھلتا ہے لیکن اس دن لیٹ ہوگیا۔ اسی دوران نو بج کر 10منٹ پر دھماکا ہوا اور اس کے تینوں خالہ زاد بھائیوں سمیت چھ افراد ہلاک لقمہ اجل بن گئے۔

حیدری مارکیٹ میں پرانی موٹر سائیکلوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک ایک دکاندار جمشید کا کہنا ہے، ’موٹر سائیکلیں نئی ہوں یا پرانی ان کی سیٹس پر انجن کے قریب تک ہر موٹر سائیکل پر ایک بڑا سا کپڑا لپٹا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ پیٹرول ٹینک پر بھی یہی کپڑا ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد موٹر سائیکل کو دھول مٹی سے بچانا ہوتا ہے لیکن اگر کوئی اس کپڑے کے نیچے دھماکا خیز مواد یا کوئی ٹائم ڈیوائس رکھ دے تو اسے کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موٹر سائیکل اکثر بم دھماکوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔‘

ٹریفک کانسٹیبل زاہد حسین نے بتایا کہ کراچی میں بے شمار موٹر سائیکلیں ایسی ہیں جن پر جعلی نمبر پلیٹ یا فینسی نمبر پلیٹ لگی ہوتی ہے۔ اُن کے بقول، حکومت نے تمام موٹر سائیکل مالکان کو سختی کے ساتھ سفید رنگ کی نئی نمبر پلیٹ استعمال کرنے کا پابند کیا ہوا ہے ۔ نئی پلیٹ نہ استعمال کرنے والوں کو پکڑنے اور ان پر 5000روپے تک کا جرمانہ عائد کئے جانے کی سزا رکھی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی بے شمار موٹرسائیکلیں ایسی ہیں جن پر نئی نمبر پلیٹ نصب نہیں۔ چونکہ کراچی میں نا جائز اسلحہ موجود ہے، لہذا روزانہ درجنوں موٹر سائیکلیں چھین لی جاتی ہیں۔ اب ان میں سے کتنی موٹرسائیکلیں کب اور کون لوگ دھماکے کے لئے استعمال کرتے ہیں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

نیو کراچی تھانے میں تعینات پولیس کانسٹیبل محمد اسلم کا کہنا ہے کہ، ’کرائے کی موٹر سائیکلوں، چھینی اور چوری کی گئی موٹر سائیکلوں کو اسٹریٹ کرائم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ گھروں میں ڈاکے، گلیوں میں جاتی آتی خواتین سے لوٹ مار، مردوں سے موبائل فون اور پرس چھیننے کی وارداتیں موٹر سائیکل پر ہی ہوتی ہیں۔ موٹرسائیکل کو تنگ سے تنگ جگہ سے گزارا جاسکتا ہے، ٹریفک میں پھنسنے کا بھی موٹر سائیکل والوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اس لئے بم دھماکوں، اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں موٹر سائیکل کا استعمال عام ہے۔ پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے، ان جرائم میں ملوث افراد کو پکڑا بھی جاتا ہے۔ ڈبل سواری پر پابندی بھی عائد کی جاتی ہے۔ لیکن، اس کے باوجود جرائم بڑھ رہے ہیں، اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت سے سخت قوانین بنائے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان قوانین پر ہرصورت عمل درآمد کرائیں ، جب تک یہ نہیں ہوگا موٹر سائیکل سے جڑے جرائم ہوتے رہیں گے۔‘
XS
SM
MD
LG