رسائی کے لنکس

متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنماعمران فاروق سپرد خاک


متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنماعمران فاروق سپرد خاک

متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنماعمران فاروق سپرد خاک

میت کوایمبولینس کے ذریعےایئرپورٹ سے پہلے ڈاکٹر عمران فاروق کی رہائش گاہ شریف آباد لایا گیاجہاں ان کے عزیز و اقارب نے میت کا آخری دیدار کیا

متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنماعمران فاروق کو سپرد خاک کردیا گیاہے۔ اس طرح سولہ ستمبر کو قتل ہونے والے ایم کیو ایم کے سابق کنوینر کی زندگی کا سفر آخری منزل کو پہنچا۔ ان کی آخری آرام گاہ کراچی کے علاقے یٰسین آباد کے ایک چھوٹے سے قبرستان میں واقع ہے جہاں ان کی پارٹی کے متعدد کارکنان ابدی نیند سو رہے ہیں۔

کراچی میں آج کا دن نہایت اہمیت کا حامل رہا ۔ مرحوم کا جسد خاکی آج صبح پی آئی اے کی پرواز پی کے 788 سے 45منٹ کی تاخیر سے صبح سوا دس بجے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچی۔ میت کے ساتھ لندن سے مقتول کے والد فاروق احمد، ان کی والدہ ،عمران فاروق کی اہلیہ، دو بچے، بہنیں ، بہنوئی، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، رضا ہارون اورواسع جلیل بھی اسی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے۔

کراچی ایئرپورٹ کے جناح ٹرمینل پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک، مقتول ڈاکٹر عمران فاروق کے اہلِ خانہ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری، مصطفی کمال، وسیم اختر، خوش بخت شجاعت، سردار احمد، شعیب بخاری، فیصل سبزواری، عادل صدیقی، کنور نوید سمیت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے میت وصول کی۔

ایئرپورٹ پر مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، فنکشنل لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود بھی جذبہ خیر سگالی کے تحت موجود تھے۔میت کو خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی ایمبولینس میں منتقل کیا گیا جسے بعد میں کراچی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون لایا گیا۔ اس سے قبل یہ خبریں آرہی تھیں کہ میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جناح گراوٴنڈپہنچایا جائے گا تاہم بعد میں ہیلی کاپٹر کے بجائے میت کوایمبولینس کے ذریعے پہلے ڈاکٹر عمران فاروق کی رہائش گاہ شریف آباد لایا گیاجہاں ان کے عزیز و اقارب نے میت کا آخری دیدار کیا۔

اس کے بعد ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو لایا گیاجہاں پارٹی کارکنوں خاص کر خواتین نے آخری دیدار کیا۔ عزیز آباد کے جناح گراوٴنڈ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن میں پارٹی کارکنان ،ہمدرد وں، رضاکاروں اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ مولانااسعد تھانوی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد میت ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں یٰسین آباد کے قبرستان لائی گئی۔ اس موقع پر نہایت نظم و ضبط کا مظاہرہ دیکھنے میں آیااور انگنت لوگوں کی موجودگی کے باوجود یہ نظم و ضبط برقرار رہا ۔ اگر چہ قبرستان بہت چھوٹا تھا اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد قبرستان جانا چاہتی تھی مگر صرف اہم لوگ ہی قبرستان کے اندر جاسکے۔ اس موقع پر بھی نظم و ضبط کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

کراچی میں جمعہ کی شب سے ہی سوگ کا ماحول تھا اور سرشام ہی تمام کاروباری مراکز اور چھوٹی بڑی تمام مارکیٹیں بند کردی گئی تھیں۔ شہر میں سیکورٹی کے نہایت سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔

اس دوران ڈاکٹر عمران فاروق کی میت کو نہایت پروٹوکول حاصل رہا۔

کراچی پولیس کا ایسٹ اور ویسٹ زون کا عملہ ہائی الرٹ تھا اور تمام انتظامات کو فول پروف بنایا گیا تھا۔ شہر میں دفعہ 144کے تحت اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔جمعہ کی رات 12 بجے سے ہی شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی تھی۔

آج کراچی میں تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی کردئیے گئے تھے۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے گاڑیاں نہ چلانے کا اعلان کیا گیا تھا اس لئے سڑکوں پر کل رات سے ہی سناٹا چھایا رہا۔ سوگ کے پیش نظر تمام شہر کے پٹرول پمپس اور دیگر ادارے بھی بندرکھے گئے۔

تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر پروٹوکول عموماًکسی سربراہ مملکت کو ہی دیا جاتا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کسی سیاسی پارٹی کے کارکن کو بعد ازمرگ اس قدر پروٹوکول ملا ہو۔

پیپلز پارٹی کی حکومت لاکھ تنقیدوں کی زد میں رہی ہومگر ایم کیو ایم سے اس نے اپنی وفاداری نبھا دی۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فول پروف سیکورٹی انتظامات کرکے حکومت نے ایم کیو ایم کا اتحادی ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔ یہ ایم کیوایم پر پیپلز پارٹی کا احسان اگر نہ بھی ہوتوبھی یہ ایک ایسی مثال ہے جو دونوں پارٹیوں کے درمیان برسوں یادرکھی جائے گی ۔

مبصرین اس کاسب سے زیادہ کریڈیٹ وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک کو دے رہے ہیں جنہوں نے ناصرف سیکورٹی پلان خود ترتیب دیا تھا بلکہ اس کی مسلسل نگرانی بھی کرتے رہے ۔ علاوہ ازیں وہ ڈاکٹر عمران فاروق کی میت کوطیارے سے موصول کرنے میں بھی پیش پیش رہے۔ تدفین سے قبل جناح گراوٴنڈ کی فضائی نگرانی بھی وزیر داخلہ رحمن ملک نے خود کی ۔

ادھر میڈیا بھی ڈاکٹر عمران فاروق کی میت کراچی پہنچنے سے لے کر لحد میں اتارے جانے تک براہ راست نشریات دکھاتا رہا جبکہ اس دوران صدر اوبامہ کے بھارت پہنچنے کی خبر کو بھی سرسری ہی کور کیا گیا ۔

XS
SM
MD
LG