رسائی کے لنکس

عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان میں سے سب سے اہم واچ ٹاورز کی تعمیر ہے جسے حفاظتی شیلڈ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ توقع ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد کراچی کا ساحل بہت حد تک محفوظ ہوجائے گا

کراچی کا ساحل۔۔’سی ویو‘۔۔شہر کے باسیوں کی سب سے پسندیدہ تفریح گاہ ہے۔ بادل چھائے ہوں یا تہواروں پر ملنے والی چھٹیاں، شہریوں کی بڑی تعداد سمندر کے مزے لینے سی ویو کا رخ کرتی ہے۔ لیکن، بعض اوقات چھٹیوں کی یہ خوشیاں اس وقت پھیکی پڑجاتی ہیں جب حفاظتی تدابیر کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں اچانک کوئی حادثہ ہوجاتا ہے۔

نظراندازی کہئے، لاپرواہی یا پھر غفلت۔۔ چند مہینے پہلے عیدالفطر کی چھٹیوں کے موقع پر ایسا ہی ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جب 40 سے زائد لوگ سمندر کی بے رحم موجوں کا نوالہ بن گئے، کیوں کہ ان مہینوں میں سمندر اپنی فطرت کے مطابق بپھرا ہوا تھا۔ لیکن، پکنک کی غرض سے یہاں آنے والے منچلوں نے اس کا خیال نہیں کیا اور گہرے سمندر میں نہانے لگے اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

واچ ٹاور سے دور تک پھیلے ساحل کا ایک نظارہ ۔ گاڑد بھی نمایاں

واچ ٹاور سے دور تک پھیلے ساحل کا ایک نظارہ ۔ گاڑد بھی نمایاں

اس سانحے کے فوری بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سی ویو پر آنے والے منچلے تیراکوں کو وارننگ دینے، ان پر نظر رکھنے اور انہیں ایک حد سے آگے نہ جانے دینے کے لئے ساحل کے ساتھ ساتھ واچ ٹاورز تعمیر کئے جائیں۔

کچھ ماہ کی محنت کے بعد اب ایک واچ ٹاور بن کر تیار ہوگیا ہے۔ اس کا افتتاح کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کیا۔ وائس آف امریکہ کو جاری تفصیلات کے مطابق، ٹاور کی اونچائی 29فٹ ہے۔ اگلے ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر ایسے مزید چار واچ ٹاور یہاں ایستادہ ہوجائیں گے۔

پروجیکٹ منیجر کمشنر کراچی آفس سید شکیب علی نے بتایا ’ٹاورز کے تعمیری منصوبے کو ایک غیر سرکاری تنظیم ’سٹیزنز کونسل فورہیومن رائٹس (سی سی ایچ آر) نے اسپانسر کیا ہے۔ اگلے ڈیڑھ ماہ میں بلاول ہاوٴس چورنگی اور ڈولمین مال کے تین کلومیٹرکے درمیانی فاصلے میں چار مزید ٹاورز قائم کئے جائیں گے۔‘

سی سی ایچ آر کے ایک عہدیدار ثاقب حسینی نے بتایا: ’ساحل پر ٹاورز کی تعمیر کے علاوہ ایک ایمرجنسی سینٹر بھی تعمیر کیا جائے گا جہاں لائف گارڈز کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کشتیاں، لاوٴڈ اسپیکرز، لائف جیکٹس اور تربیت یافتہ ریسکیو عملہ موجود ہوگا۔ ریسکیو سینٹر چھ ماہ کے اندر اندر کام شروع کردے گا۔‘

واچ ٹاور کی اوٹ میں چھپتا شام کا تھکا ماندہ سورج

واچ ٹاور کی اوٹ میں چھپتا شام کا تھکا ماندہ سورج

حسینی کے مطابق، ’یہاں مجموعی طور پر 20 ٹاورز تعمیر ہوں گے، جنہیں ساحل کی حفاظتی شیلڈ کہنا چاہئے۔ 20 میں سے 12 بڑے اور 8چھوٹے ٹاور ہوں گے۔‘

جہاں یہ ٹاورز تعمیر کئے جارہے ہیں وہ علاقہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ملکیت میں آتا ہے، جبکہ باقی علاقے کی ذمے داری ڈیفنس ہاوٴسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی ہے۔ ڈی ایچ اے بھی عوام کی حفاظت کو ہر ممکن بہتر بنانے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد کراچی کا ساحل بہت حد تک محفوظ ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG