رسائی کے لنکس

بھتہ وصولی کے بھی الگ الگ طریقے ہیں۔ کسی کے نام کاغذ کی پرچی بھیجی جاتی ہے تو کسی کو پرچی کے ساتھ بندوق کی گولیاں بھی ارسال کردی جاتی ہیں

گذشتہ کچھ ماہ سے کراچی کے حوالے سے ’اولڈ سٹی ایریا‘ کا خبروں میں بار بار تذکرہ ہورہا ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ شہر کا قدیم علاقہ ہے۔ یہ تجارتی لحاظ سے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں بولٹن مارکیٹ، جونامارکیٹ، کھارادر، میٹھادر سمیت 100 سے زائد تجارتی مراکز واقع ہیں، جن میں دکانوں کی تعداد 10 ہزارسے کہیں زیادہ ہے۔

یہاں ہر قسم کا اجناس، دوائیں، بجلی و پلاسٹک کا سامان، سرجری کے آلات، غیرملکی مضوعات، عطریات، کپڑے، کراکری، فرنیچر۔۔۔غرض کہ دنیا کی کون سی شے ہے جو یہاں نہ بکتی ہو۔ شہر کے کسی اور علاقے میں اتنے زیادہ اور اہم تجارتی مراکز نہیں۔

تجارتی مراکز کے سبب ہی یہاں کا فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ بھتہ خوری ہے۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کو اس علاقے میں آباد لوگوں اور تاجروں نے بتایا کہ یہاں بھتہ خوروں کی طوطی بولتی ہے۔ زیادہ تر بھتہ خور یا تو گینگ وار میں ملوث ہیں یا انہیں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کے سبب تاجراور علاقے کے رہائشی خوف زدہ رہتے ہیں اور خاموشی سے ہر ماہ کروڑوں روپے بھتہ دیتے ہیں۔

بڑے دکاندار ماہانہ 2 سے 3 ہزار روپے اور چھوٹے دکاندار 5سو سے 2 ہزار روپے تک بھتہ دیتے ہیں، جبکہ بھتہ معافی کی گنجائش کسی کے لئے نہیں۔

بھتہ وصولی کے بھی الگ الگ طریقے ہیں۔ کسی کے نام کاغذ کی پرچی بھیجی جاتی ہے تو کسی کو پرچی کے ساتھ بندوق کی گولیاں بھی ارسال کردی جاتی ہیں۔ کسی کے مزاحمت کرنے کی امید ہو تو اسے براہ راست ٹیلی فون پر دھمکایا جاتا ہے۔ اس پر بھی کوئی نہ مانے تو اسے بھرے بازار سے، دن دھاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اس سے تاوان میں لمبی چوڑی رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔

نمائندے کو مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں اندازاً 100 تاجر اغوا ہو چکے ہیں، جبکہ چھ ماہ ابھی باقی ہیں۔ علاقے سے تقریباً40 ہزارافراد کا روزگار وابستہ ہے۔ بھتہ خوری سے ویسے تو سب ہی لوگ تنگ آئے ہوئے ہیں۔ تاہم، 20 فیصد دکاندار ایسے ہیں جنہوں نے بھتہ خوروں سے تنگ آکر یہ شہر ہی چھوڑ دیا ہے۔

رمضان میں دوگنا بھتہ

علاقے کے تاجروں و دکانداروں کا اندازہ ہے کہ رواں برس بھتہ نہ دینے پر ایک درجن سے زائد تاجروں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ تقریباً اتنے ہی تاجروں کو زخمی کردیا گیا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ چند دنوں بعد رمضان شروع ہونے والا ہے جسے دیکھتے ہوئے بھتہ مافیا کے لوگوں نے بھتے کے ریٹ ڈبل کردیئے ہیں۔

تاجربرادری کا کہنا ہے کہ اگر حکام بالا نے اب بھی اس مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تو اولڈ سٹی ایریا کا ہی نہیں پورے شہر کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوگا، کیوں کہ اس علاقے میں تھوک کی مارکیٹیں بھی ہیں جہاں سے سارے شہر اور سارے پاکستان کو مال سپلائی ہوتا ہے۔ پہلے ہی یہاں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کاروباری سرگرمیوں میں تیس فیصد کمی آچکی ہے۔ یہی حال رہا تو کاروبار ٹھپ اور علاقہ ویران ہوجائے گا۔

میڈیا میں اولڈ سٹی ایریا کے حوالے سے سامنے آنے والے مسائل کے بعد حکومت سندھ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کھارادر، میٹھادر، جوڑیا بازار، پاکستان چوک اور آرام باغ سمیت متعدد علاقوں میں 150 سے زائد پولیس چوکیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں متاثرہ علاقوں میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس شہر میں جرائم پیشہ عناصر اور بھتہ خوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہی ہے اور آئندہ بھی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
XS
SM
MD
LG