رسائی کے لنکس

کراچی ریڈیو اسٹیشن کی تاریخی عمارت میں سناٹے کا راج


ایم اے جناح روڈ پر واقع اس قدیم عمارت کو ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی نشری تقریر براڈکاسٹ ہوئی۔ ناصرف یہ بلکہ ملک کے مشہور و معروف گلوکاروں نورجہاں اور مہدی حسن جیسی نامور شخصیات بھی یہاں سے اپنے سر بکھیر چکی ہیں

ایم اے جناح روڈ کے سعید منزل پر واقع 'ریڈیو پاکستان کراچی‘ کی اس پرانی عمارت نے کئی مشہور آوازوں اور فنکاروں کو جنم دیا۔ کل جہاں بڑی بڑی نامور شخصیات اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے، آج وہاں سناٹے کا راج ہے۔

پرانے وقتوں کے شہری آج بھی اس عمارت کو دیکھ کر ماضی میں کھوجاتے ہیں۔ کسی زمانے میں، کراچی کی اس مرکزی شاہراہ کا نام بندر روڈ ہوا کرتا تھا۔

یوں تو ایم اے جناح روڈ پر کئی تاریخی عمارات واقع ہیں، مگر پرانے ریڈیو اسٹیشن کی ایک بڑے اور دو چھوٹے چھوٹے گنبذوں والی یہ پرانی عمارت کئی مشہور آوازوں اور واقعات کی امین رہی ہے۔

ایک وہ وقت تھا جب ریڈیو اسٹیشن کراچی کی اس عمارت میں مشہور و معروف فنکار اور صداکار ڈیرہ جمائے رہتے تھے، اور اُن کی پُراثر آوازیں گونجا کرتی تھیں۔۔۔ چاہے سدا بہار موسیقی کا شعبہ ہو، دل لبھانے والے ڈراموں کی پیش کش ہو، ’حامد میاں کے ہاں‘، بچوں کا پروگرام ہو، بزم طلبہ، مذہبی پروگرام، تقاریر، تبصرے یا پھر خبریں یا مانیٹرنگ کی دنیا ہو؛ یا پھر لوک فنکار۔ پھر یہاں زیڈ اے بخاری جیسے منتظم اعلیٰ درجے پر فائز رہ چکے ہیں۔

گلوکار اور گلوکاراوٴں میں نورجہاں، مہدی حسن، محمد ابراہیم، محمد جمن، روبینہ قریشی، زرینہ بلوچ، احمد رشدی یا مہ ناز اور ریشماں؛ یا پھر فلمی دنیا پر راج کرنے والے ستارے، محمد علی،شمیم آرا، مصطفیٰ قریشی، طلعت حسین؛ خبریں پڑھنے والوں میں شکیل احمد، انور بہزاد، شمیم اعجاز،انور حسین، ایڈورڈ کیٹپیئر اور چشتی مجاہد۔۔کس کس کا نام لیا جائے۔

اس قدیم عمارت کے اندر آج بھی ملک کے نامی گرامی فنکاروں، گلوکاروں اور سازو آواز کی مشہور شخصیات کی تصاویر آویزاں ہیں، جو برسوں قبل اس عمارت میں آکر اپنے فن کا جادو جگا کر ریڈیو سامعین کو اپنا گرویدہ بنایا تھا۔

اس عمارت کو اب 'تاریخی و ثقافتی ورثہ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔۔ کوئی شک نہیں کہ تاریخی اعتبار سے، ریڈیو اسٹیشن کی یہ عمارت اپنی اہمیت آپ رہی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ریڈیو پاکستان کی اس عمارت سے ریڈیو ٹرانسسٹر تک پہنچنے والی مشہور فنکاروں کی آوازیں نہ صرف کانوں کو بھاتی تھیں، بلکہ عمارت کے قریب سے گزرنے والے افراد کی یہ کوشش رہتی تھی کہ اپنی من پسند شخصیات کی ایک جھلک دیکھ سکیں، اور ایسا بھی ہوا کہ شائقین نے اپنی پنسد کے فنکاروں سے ملاقات یا اُن کی جھلک رکھنے کے لیے گھنٹوں اس عمارت کے سامنے انتظار کیا۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ریڈیو ہی انٹرٹنمنٹ کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

ریڈیو پاکستان کراچی سے ایک عرصے تک سے

بطور براڈکاسٹر، ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ رہنے والے جامعہ کراچی کے شعبہٴابلاغ عامہ کے پروفیسر، انعام باری نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اس تاریخی عمارت کے بارے میں بتایا کہ ’قیام پاکستان کے ایک برس بعد، ریڈیو پاکستان کراچی کیلئے ایک باقاعدہ عمارت کی ضرورت محسوس کرتے یوئے، سنہ 1948 میں اسے باقاعدہ ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کا درجہ دیا گیا تھا، جہاں سے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، مرحوم لیاقت علی خان بھی تقریر کرچکے ہیں۔

حالیہ تاریخ یہ ہے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث عمارت میں آگ لگنے کا ایک واقع پیش آیا، جس کے نتیجے میں عمارت کا کافی حصہ خاکستر ہوگیا، اور تب سے اسے دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔

بجا طور پر ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرنے والی اس عمارت کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں۔

پروفیسر انعام باری نے بتایا کہ اوائل کے ادوار میں یہاں ریکارڈنگ کی سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اس لئے، پروگرام لائیو براڈکاسٹ ہوا کرتے تھے۔

اُنھوں نے بتایا کہ جب ریڈیو پر کوئی مشہور شخصیت یا شوبز سے منسلک افراد بطور مہمان آتے، تو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ عمارت کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم ہوا کرتا تھا جو اپنے من پسند فنکار یا فنکارہ کی ایک جھلک کے درشن کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ بقول اُن کے، ’ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عمارت اپنے اندر کئی یادیں سموئے ہوئے ہے‘۔

پروفیسر انعام باری کے بقول، ’برسوں پہلے، ریڈیو کا ایک گلیمر ہوتا تھا‘۔

ایک مثال دیتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معروف گلوکارہ، منی بیگم اپنے کیریئر کے اوائلی دور میں صرف اپنی آواز سے پہچانی جاتی تھیں۔ اخبارات میں ان کی کوئی تصویر نہیں آیا کرتی تھی۔ جب وہ ریڈیو کے پرگرام میں آتی تھیں تو لوگ ان کو دیکھنے کیلئے، کئی گھنٹوں تک ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کے باہر بیٹھے رہتے کہ دیکھیں منی باجی کی شخصیت کیسی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عمارت سے وابستہ کئی نامور گلوکاروں اور فنکاروں کی آوازوں کو یہاں سے بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کراچی کی نشریات، ایک عرصہ قبل، گلشن اقبال منتقل کردی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG