رسائی کے لنکس

سندھ حکومت: کراچی آپریشن میں تیزی لانے کا اعلان


فائل

فائل

ستمبر 2013ء سے کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کا آپریشن جاری ہے جسے پولیس کی معاونت بھی حاصل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں جاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

ستمبر 2013ء سے کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کا آپریشن جاری ہے جسے پولیس کی معاونت بھی حاصل ہے۔

اس ڈیڑھ سال کے عرصے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کئے گئے جن میں بڑی تعداد میں مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔ کئی مشتبہ افراد رینجرز اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں مارے گئے اور رینجرز اور پولیس کی ان کاروائیوں میں بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا جاتا رہا ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس اور رینجرز کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے اور جب بھی کسی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے تو قانون نافذ کرنے والے اہلکار کاروائی کرتے ہیں۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پولیس کی استطاعت کو بڑھایا جا رہا ہے اور کچھ پولیس افسران کو فوج سے بھی تربیت دلوائی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے سکیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالیہ آپریشن کے نتیجے میں کراچی کے حالات بہتر ہوئے ہیں اور جرائم میں کمی آئی ہے۔

کراچی پولیس کے ترجمان عتیق شیخ نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی آپریشن بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے نتیجے میں شہر میں سنگین جرائم میں ساٹھ سے ستر فیصد تک کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کو تیز کیا جا رہا ہے جس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

دریں اثنا کراچی میں دو نوجوانوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے الزام میں پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ افسر ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اتوار کی صبح بہادرآباد کے علاقے میں پولیس نے موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں کو رکنے کا اشارہ کیا اور ان کے نہ رکنے پر فائرنگ کردی تھی۔

فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کا موقف تھا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں موٹر سائیکل سوار لوگوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں۔

تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول نوجوانوں کے کسی جرائم پیشہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا ریکارڈ نہیں ملا ہے۔

XS
SM
MD
LG