رسائی کے لنکس

کراچی: جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ، گھر گھر تلاشی


فائل

فائل

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر قابو پانے کے لئے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اوررینجرز اور پولیس مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر قابو پانے کے لئے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اوررینجرز اور پولیس مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات جاری ہیں اور گزشتہ روز بھی کم از کم سات افراد کو نشانہ بنا یا گیا جبکہ پچھلا ماہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ خبروں میں رہا۔ پہ در پہ ہونے والے ان واقعات پر قابو پانے کے لئے شہر میں کرفیو لگانے اور بعد ازاں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور ناجائز اسلحے کی برآمدگی کے لئے گھر گھر تلاشی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ گو کہ اس فیصلے پر خاصی تنقید بھی ہوئی مگربلا خر گزشتہ شب یعنی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو کراچی کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی اور جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ۔

گزشتہ روز سیکیورٹی اہلکاروں نے سلطان آباد، رابعہ سٹی ،گلستان جوہر ، پہلوان گوٹھ، گلشن اقبال، کٹی پہاڑی، بنارس، ا ورنگی ٹاون ، اسکاوٴٹ کالونی، قائد اعظم کالونی، سولجر بازار ، بلدیہ ٹاوٴن ، منگھوپیر اور دیگر علاقوں کا محاصرہ کرکے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور تفتیش کی غرض سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان میجر بلال کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف اور صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی جارہی ہے ۔ خاص طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔

محاصروں کے دوران رینجرز نے مختلف گھروں کی تلاشی لی اور پولیس ذرائع کے مطابق بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کیا۔ تاہم رینجرز نے حراست میں لئے جانے والے افراد کی تعداد اور برآمد ہونے والے اسلحے کے بارے میں بتانے سے اجتناب برتا ۔

محاصروں اور سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لئے گئے افراد میں سے سو سے زائدافراد کو آج دن کے وقت رہا کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی اتنی ہی تعداد میں ملزمان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

محاصروں سے متعلق ایک اخباری اطلاع میں کہا گیا ہے کہ سلطان آباد کے قریب زین العابدین محسود نامی شخص اور اس کے ساتھیوں نے سادہ لباس میں ملبوس دوسیکیورٹی اہلکاروں کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ ان کا سرکاری اسلحہ بھی چھین لیا تھا جس کے بعد مذکورہ ملزمان کی گرفتاری اور سرکاری اسلحے کی برآمدگی کے لئے جمعرات کی شب رینجرز نے سلطان آباد میں کارروائی کرتے ہوئے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کردیا جس کے دوران بعض مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا مگر زین العابدین فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

خبر کے مطابق زین العابدین کی گرفتاری کے لئے رینجرز نے آپریشن کا دائرہ بڑھاتے ہوئے گلستان جوہر میں رابعہ سٹی ، گلشن اقبال میں میکاسا اپارٹمنٹ، قائداعظم کالونی ، قصبہ کالونی، بنارس اور دیگر علاقوں میں بھی چھاپے مارے اور متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ زین العابدین نے سلطان آباد میں ایک ڈسپنسری کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ وہ ڈکیتی کی کئی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ ایک واردات کے دوران وہ رنچھوڑ لائن میں پکڑا گیا تھا اور عوام اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگارہے تھے کہ پولیس نے اسے بچاکر گرفتار کرلیا جبکہ ماضی میں وہ مبینہ طور پرجنوبی وزیرستان ایجنسی میں طالبان دہشت گرد بیت اللہ محسود کے ساتھ بھی طویل وقت گزار چکا ہے۔

دریں اثناء رینجرز کے ترجمان نے واضح کیا کہ سلطان آباد میں کسی خاص شخص کی گرفتاری کے لئے آپریشن نہیں کیا گیا بلکہ یہ چھاپے جرائم پیشہ افراد کے خلاف معمول کے کریک ڈاوٴن کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب حکمراں اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے الزام لگا یا ہے کہ کارروائیاں کراچی کے پختون آبادی والے علاقوں میں کی جارہی ہیں اور اے این پی کے عہدیداروں سمیت ڈھائی سو سے زائد افراد کو گرفتار کرلیاگیا۔اے این پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے سو سے زائد کارکنوں کو آج صبح رہا کردیا گیاجن میں اے این پی کے تین ضلعی صدور اور جنرل سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔ تاہم رینجرزذرائع کا کہنا ہے کہ جرائم میں ملوث ہونے کے شبہ میں دیگر زیر حراست افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

رینجرز کے ایک اور ترجمان میجر اورنگزیب کے مطابق جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپے معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG