رسائی کے لنکس

صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے مقامی میڈیا کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جن علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے وہ زیادہ تر نواحی اور مضافاتی علاقے ہیں

کراچی کی انتظامیہ نے مئی میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر شہر کے 30 مقامات کو حساس قرار دے دیا ہے۔ یہ مقامات شہر کے18 ٹاوٴنز میں واقع ہیں۔

صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے مقامی میڈیا کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جن علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے وہ زیادہ تر نواحی اور مضافاتی علاقے ہیں جن میں لانڈھی کے علاقے مانسہرہ کالونی، گلشن بونیر، اور شیرپاوٴکالونی شامل ہیں۔

دیگر علاقوں میں گڈاپ، گلشن معمار ،جنجال گوٹھ، افغان بستی، سہراب گوٹھ، چھوٹا پلازہ، میکاسا اپارٹمنٹ گلشن اقبال، پرانی سبزی منڈی، جمالی گوٹھ، شانتی نگر اور ڈالمیا کے کچھ حصے شامل ہیں۔

لیاقت آباد میں الیاس گوٹھ، کٹی پہاڑی، شریف آباد، عزیز آباد، گلستان جوہر، پہلوان گوٹھ اور صفورا گوٹھ بھی حساس علاقے قرار دیئے گئے ہیں۔ ناتھا خان گوٹھ، ڈرگ روڈ، مہران ٹاوٴن کورنگی، کھوکھرا پار اور میمن گوٹھ کو بھی حساس علاقوں کا درجہ دیا گیا ہے۔

محمود آباد میں چنیسر گوٹھ، منگھو پیر کے علاقے سلطان آباد، پختون آباد، نیو میاں والی کالونی اور کنواری کالونی کے علاوہ ایوب گوٹھ، بلدیہ میں اتحاد ٹاوٴن اور شیرشاہ حساس علاقے ہیں۔

کیماڑی ٹاوٴن کی شیریں جناح کالونی، جیکسن، ڈاکس، شاہ رسول کالونی کے علاوہ سلطان آباد اور ہجرت کالونی، برزٹہ لین اور لیاری کے مختلف علاقوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔

حساس قرار دیئے گئے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کرنے کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے, جبکہ مختلف سیکورٹی پلانز پر بھی عمل کیاجارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG