رسائی کے لنکس

زلزلے سے بے خوف 'خطروں کے کھلاڑی'


زلزلے سے بے خوف 'خطروں کے کھلاڑی'

زلزلے سے بے خوف 'خطروں کے کھلاڑی'

پاکستان میں 18اور 19 جنوری کی درمیانی شب آنے والے زلزلے نے ملک بھر کے لوگوں کو جہاں بری طرح لرزا دیا ہے وہیں کراچی کی 176 عمارتوں کے شہری ایسے بھی ہیں جو نڈر تو ہیں ہی "خطروں کے کھلاڑی" بھی بن گئے ہیں۔ یہ شوقیہ کھلاڑی ہیں یا مجبوراً، یہ جاننے سے پہلے آیئے کراچی کی بستیوں پر ایک نظر ڈالی جائے۔

کراچی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہ شہرسکندر اعظم کی گزرگاہ رہا۔ سلطنت عثمانیہ کے امیرالبحر سیدی الرئیس نے بھی اپنی ایک کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ 712 عیسوی میں محمد بن قاسم نے اپنے سفر کا آغاز بھی یہیں سے کیا تھا۔ بحیرہ عرب سے مسقط اور خلیج فارس سے ہونے والی تجارت کے پیش نظر 1720 میں کراچی میں ایک فوجی قلعہ بھی تعمیر ہوا جس کے دو دروازے کھارادر اور میٹھا در کہلائے۔ یکم فروری1839ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا جہازبھی کراچی کے جزیرے منوڑہ پر لنگر انداز ہوا۔ انگریزوں نے1840ء میں کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنایا۔ 1846ء میں کراچی کو ٹیلیگراف کے ذریعے لندن سے جوڑ دیا گیا۔ اسی دور میں اس شہر میں کئی بڑی عمارات تعمیر کی گئیں جن میں فرئیرہال اور ایمپریس مارکیٹ بھی شامل ہیں۔

انیسویں صدی کے اختتام تک کراچی کی آبادی ایک لاکھ کے قریب تھی لیکن چونکہ یہ برٹش دورسے ہی مختلف قوموں کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے لہذا یہاں آکر آبادہونیوالوں کی آبادی بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ یہ رجحان اب بھی بہت تیزی سے جاری ہے ۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی کی رپورٹ ”لائف ان بگ سٹی: پاکستان ان فوکس“ کے مطابق کراچی دنیا کا تیسرا گنجان ترین شہر ہے۔ یہاں آ بادی میں اضافے کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کی 60 فیصد شہری آبادی بھی کراچی میں آباد ہے جبکہ صوبے کی 75 فیصد شہری آبادی کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں ہی رہائش پذیر ہے۔ اس لحاظ سے بھی کراچی ہی سرفہرست ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث کراچی میں رہائش ایک مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ اگرچہ پچھلے دس پندرہ سالوں سے فلیٹس کی تعمیر نے شہر کو فلیٹوں کا جنگل بنادیا ہے مگر اس کے باوجود شہر میں مکانات کا بحران ہے۔ حالیہ برسوں میں زمین، جائیداد کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ ایک عام آدمی اپنے مکان کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شہر کو مختلف ٹاوٴنز میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ ان ٹاوٴنز میں سب سے اہم ٹاوٴن صدر ہے۔ صدر ٹاوٴن مکمل طور پر شہر کا سب سے بڑا تجارتی علاقہ ہے ۔ برنس روڈ، صدر، لائنز ایریا، رنچھوڑ لائن، جوبلی وغیرہ کا نہایت گنجان علاقہ بے شمار تاریخی اور قدیم عمارتوں سے بھر ا پڑا ہے۔ ان میں سے بعض عمارات سو، سو سال پرانی ہیں اور بعض کی میعاد عرصہ پہلے ختم ہوچکی۔ لیکن رہائشی بحران، مہنگی زمینیں اور کچھ لوگوں کی عادت کے سبب بھی ان عماراتوں کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے خالی کرانے اور انہیں مخدوش قرار دیئے جانے کے باوجود آج بھی ہزاروں خاندان ان علاقوں میں موجود ہیں۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی پبلک ریلیشنز آفیسر نسیم فرح نے وی او اے سے خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ شہر کے تین ٹاوٴنز ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ مخدوش اور خطرناک عمارتیں قائم ہیں۔ ان میں ترتیب کے لحاظ سے سب سے پہلے صدر ٹاوٴن، پھر لیاقت آباد ٹاوٴن اور آخر میں ملیر ٹاوٴن آتا ہے۔ نسیم فرح کا کہنا ہے کہ صدر ٹاوٴن کی مخدوش عمارتوں پر سب سے زیادہ خطر ہ منڈلا رہا ہے اگر خدانخواستہ 19 جنوری کو آنے والے زلزلے کے ممکنہ آفٹر شاکس آئے اور اللہ نہ کرے عمارتیں ہلیں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں کیا حال ہوگا۔

اس نمائندے کی جانب سے صدر ٹاوٴن میں کئے گئے سروے کے مطابق علاقے کی 176 مخدوش عمارتوں میں گنجان آبادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ایک فلیٹ میں سات سات اور آٹھ آٹھ افراد رہتے ہیں جبکہ ایک عمارت میں کم از کم دس سے پندرہ فلیٹس کا اوسط بھی نکالا جائے تو 176 عمارتوں میں موجود لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ جبکہ بعض فلیٹس میں تو مکینوں کی تعداد دس سے بھی زیادہ ہے۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے19جنوری کوآنے والے زلزلے کے جھٹکوں اور ماہرین کے مطابق آفٹرشاکس کی ممکنہ پیش گوئی کے باوجود خطرناک قراردی گئی عمارتوں کے استعمال پر تشویش کااظہار کیاہے ۔ کے بی سی اے نے اس سلسلے میں ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات کی جانب سے خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو خبردار کیا ہے کہ تاریخی تجربات کی بنیاداور محکمہ میٹرولوجیکل کے ماہرین کے مطابق شہر میں زلزلے کے بعد آفٹرشاکس آنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ نئی صورتحال کے حوالے سے کے بی سی اے ٹیکنیکل کمیٹی نے خطرناک عمارتوں کاجائزہ لینا شروع کردیاہے۔

کے بی سی اے نے ان عمارات کے مکینوں پر واضح کیا ہے کہ زلزلے یابعدازاں جھٹکوں کی صورت میں مضبوط معیاری عمارتوں کے مقابلے میں پہلے سے ناقص اورمخدوش تعمیراتی ڈھانچہ کی حامل خطرناک عمارتوں کے زمیں بوس ہونے کے خدشات کئی گنازیادہ ہوتے ہیں لہٰذا ا ن خدشات کے باوجود خطرناک قراردی گئیں عمارتوں میں مکینوں کی رہائش یا کاروباری استعمال انتہائی تشویشناک امرہے ۔ اتھارٹی کے مطابق قدرتی آفات یا کسی بھی حادثاتی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کی تلافی اور املاک کے نقصان کی صورت میں انسانی المیے کااندیشہ ہے ۔ اس لئے ایسی عمارتوں میں رہائش یا ان کے دیگراستعمال کو فوری طور پر ترک کیاجائے ۔

اتھارٹی کے مطابق ان خدشات کی موجودگی کے پیش نظرمخدوش اور خطرناک قراردی گئی عمارتوں سے ملحقہ عمارتوں کے مکین اور دیگرشہری بھی محتاط رہیں ۔

کنٹرولرآف بلڈنگز نثار احمد کی سربراہی میں ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی نے خطرناک قراردی جانے والی عمارتوں کاایک بار پھرسروے شروع کردیاہے ۔ چیف کنٹرولر آف بلڈنگز منظورقادر کے مطابق کراچی میں آنے والے حالیہ زلزلے سے اگرچہ کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا تاہم مخدوش عمارتوں کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ ان عمارت کے مکینوں کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں انہیں خالی کردیں۔

کے بی سی اے کی جانب سے مختلف اوقات میں بار بار جاری کی جانے والی تنبیہ کے باوجود برنس روڈ کی مخدوش قرار دی جانے والی ایک عمارت کے مکین مجاہد حسین کا کہنا ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اس نے چاہا تو کچھ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسی عمارت میں پیدا ہوئے اور جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا، دادی اور والدین کا بھی اسی عمارت میں انتقال ہوا اور یہیں انہوں نے اپنی زندگی کے بہت سے سال بسر کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو ہماری اتنی ہی فکر ہے تو ہمیں نئے مکانات دے دے۔

انہیں عمارات کے کچھ اور مکین بھی کم وبیش ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اس مہنگائی کے دور میں کسی اور جگہ مکان خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور ان عمارتوں کی مارکیٹ ویلیو اتنی نہیں کہ انہیں بیچ کر کسی دوسری جگہ مکان بناسکیں۔

ایک بزرگ شہری عبدالحمید غازی نے بتایا کہ پورے علاقے میں پگڑی سسٹم پر مکانات یا فلیٹس لینے کا رواج عام ہے۔ پگڑی نسبتاً کم ہوتی ہے لہذا لوگ یہ مکانات پگڑی پر لے لیتے ہیں اور پگڑی پر لئے جانے والے مکانات کا کرایہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ باقی شہر میں پگڑی سسٹم اب رائج نہیں اس لئے یہ مکین فلیٹ یا عمارت خالی نہیں کرسکتے۔ یہ تمام عمارتیں متوسط طبقے کے لوگوں کی ہیں جو عمارت توڑ کر نئی بنانے کا خواب بھی دیکھتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ جن لوگوں کے بچے بڑے ہوگئے، اچھا کمانے کھانے لگے یا بیرون ملک چلے گئے انہوں نے اپنے مکانات بیچ دیئے ہیں لیکن ان کی جگہ جو لوگ آئے ہیں وہ اب یا تو 'دن بدلنے' کا انتظار کریں یازمین میں گڑے کسی خزانے کے ملنے کا ۔۔ ان کے پاس تیسری کوئی صورت نہیں۔

XS
SM
MD
LG