رسائی کے لنکس

بلا امتیاز ایکشن کے بغیر کراچی میں امن کا قیام ممکن نہیں: منظور وسان

  • قمرعباس جعفری

بلا امتیاز ایکشن کے بغیر کراچی میں امن کا قیام ممکن نہیں: منظور وسان

بلا امتیاز ایکشن کے بغیر کراچی میں امن کا قیام ممکن نہیں: منظور وسان

کراچی شہر کے حالات تب تک درست نہیں ہوں گےجب تک تمام سیاسی فورسزایک بلا امتیاز ایکشن کے لیےاپنے سیاسی عزم کا اظہار نہیں کرتیں: نذیر لغاری

پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں بدامنی ملک کے ہر طبقہٴ فکر کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ ہرچند کہ اتوار کوتشدد میں کمی آئی ہے، لیکن ابھی امن قائم نہیں ہوا، جب کہ بعض حلقوں کی جانب سےفوج طلب کرنے کے مطالبے میں شدت آرہی ہے۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’اِن دِی نیوز‘میں شرکت کرتے ہوئے سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا تھا کہ جب تک کراچی میں کوئی بلا امتیاز کارروائی نہیں ہوگی تب تک حالات درست نہیں ہوں گے۔

اُن کے الفاظ میں ’کراچی اسلحے کا ڈھیر ہے۔ پارٹیز میں بھی ایسے عناصر ہیں جو اسلحے کے اِس ڈھیر کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اِس کے ساتھ طالبان کا عنصر بھی ہے۔ لینڈ مافیا بھی ہے اور بھتہ خوری بھی ہے۔ اور ایسے بھی عناصر ہیں جو کراچی کو غیر مستحکم کرنے کی سازش آج سے نہیں ایک مدت سے کر رہے ہیں‘۔

منظور وسان نے کہا کہ کچھ ٹارگٹ کلرز، پیسے بٹورنے والے، اسٹریٹ کرائیم کرنے والےلوگ بھی پکڑے گئے ہیں، پھر یہ کہ دو روز قبل قانون کا نفاذ کرنے والوں پر حملہ کرنے والوں کو بھی پکڑا گیا ہے۔

اِس سوال پر کہ پکڑے گئے افراد کا کس پارٹی سےتعلق ہے، منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ بتانے کا ’یہ صحیح وقت نہیں‘ ہے۔

گورنر ہاؤس میں آج کے اعلیٰ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ سارے شرکا ٴنے اِس بات سے اتفاق کیا کہ کسی مرحلے پر شہر میں کارروائی کرنا پڑے گی۔

ممتاز تجزیہ کار نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں فوج طلب کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ساتھ ہی، اُن کا کہنا تھا کہ اگر شہر میں امن لانا مقصود ہے تو اِس کے لیے سیاسی عزم کا ہونا لازم ہے۔ اُن کے الفاظ میں: ’سب جانتے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی کے پاس ’ملیٹنٹ وِنگ‘ ہے، جب تک سب کے سب غیر مسلح نہیں ہوتے امن نہیں آسکتا‘۔

آئندہ کے منظر نامے سے متعلق ایک سوال پرنذیر لغاری نے کہا کہ ’مجھے کوئی خاص امید نظر نہیں آتی۔ سمجھوتے بازی ہوجائے گی۔ مفاہمت ہوجائے گی۔ مصلحتیں ہو جائیں گی۔ شاید کسی حد تک ’کلنگز‘ بھی رُک جائیں۔ لیکن، شہریوں کو کوئی دائمی امن نصیب ہو جس سے لوگوں کے لیے مواقع کے راستے کھلیں ۔ ایسا امن اِس وقت نظر نہیں آتا۔ فوجی آپریشن کریں پھر بھی نظر نہیں آتا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی شہر کے حالات تب تک درست نہیں ہوں گےجب تک تمام سیاسی فورسزایک بلا امتیاز ایکشن کے لیےاپنے سیاسی عزم کا اظہار نہ کریں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG