رسائی کے لنکس

کراچی میں 14 دن کے ہنگاموں کے بعد امن قائم، سیاسی بیانات جاری


کراچی میں 14 دن کے ہنگاموں کے بعد امن قائم، سیاسی بیانات جاری

کراچی میں 14 دن کے ہنگاموں کے بعد امن قائم، سیاسی بیانات جاری

پاکستان کے تجارتی مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی میں چودہ روز میں 132 افراد کی ہلاکتوں کے بعد جمعرات کو صورتحال معمول پر آنا شروع ہو گئی تاہم سیاسی قائدین کے بیانات کی گونج ابھی جاری ہے۔ سندھ عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت سندھی قوم کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر معافی مانگے، ورنہ کل سندھ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنان کو پر امن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں۔

جمعرات کو شہر میں فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس کے سبب بد امنی کا شکار علاقوں کے مکینوں کی ایک بڑی تعداد نے بازاروں اور کاروباری مراکز کا رخ کیا اور خریداری میں مصروف رہے۔

22 جولائی کو کراچی کے علاقوں ملیر اور لانڈھی سے شروع ہونے والے دو گروپوں کے تصادم نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کے بعد چودہ دن تک روزانہ کئی افراد لقمہ اجل بنتے رہے جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکل نذر آتش کر دی گئیں ۔ اس تمام تناظر میں کراچی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد الطاف حسین اور اے این پی نے کراچی میں فوج کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا تاہم حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ حالات ایسے نہیں کہ فوج بلائی جائے۔

صدر آصف علی زرداری کی ڈپٹی پولیٹیکل سیکریٹری فوزیہ وہاب نے راولپنڈی میں صحافیوں کو بتایا کہ کراچی میں قیام امن کے لئے کسی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ،کراچی کا مسئلہ دیرینہ ہے اور یہ مسئلہ صرف ایک طبقے یا جماعت کا نہیں بلکہ ہر زبان بولنے والے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لئے سب کا مل بیٹھنا ضروری ہے۔

ادھر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نے لاہور سے جاری بیان میں کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مسئلے کا حل نکالا جائے ، مذہبی اور سیاسی عدم برداشت کی وجہ سے کراچی کے حالات خراب ہو رہے ہیں اور اقتداراور طاقت کے حصول کیلئے عام لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

حیدر آباد میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کراچی کے خراب حالات کی ذمہ داری پیپلزپارٹی ، اے این پی اور ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین، شاہی سید اور ذوالفقارمرزاکے خلاف مقدمات درج کیے جائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو بولنے والے کسی منفی سیاست کا حصہ نہ بنیں ، وہ سندھ کے باشندے اور ہمارے بھائی ہیں۔

حیدرآباد میں ہی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے الطاف حسین ، وسیم اختر اورایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے سندھی قوم کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معافی نہیں مانگی تو کل سندھ بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہوگی۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے اردو بولنے والوں سے اپیل کی کہ وہ اس ہڑتال کی حمایت کریں۔

گزشتہ روز کراچی کے حالات پر سخت برہمی کا اظہار کرنے والے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو بیان میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر قیمت پر پر امن رہیں ،صبروتحمل اورضبط وبرداشت سے کام لیں اورامن کیلئے تمام جماعتوں اورتمام قومیتوں سے بات کریں۔ الطاف حسین نے کہاکہ انھوں نے دوروزقبل عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک ماہ کاراشن جمع کرکے رکھ لیں،اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جب گزشتہ دنوں قصبہ کالونی میں کٹی پہاڑی پر سے دہشت گرد حملے کررہے تھے ،توعلاقہ مکینوں کے گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئی تھیں اورکئی گھرانے ایسے تھے کہ معصوم بچوں کوپینے کیلئے دودھ تک نصیب نہیں ہوا۔ اسی بیان میں الطاف حسین نے یہ بھی کہا کہ اگر انکے کسی بیان سے سندھی قوم خصوصا سندھی قوم پرستوں کی دل آزاری ہوئے ہے تو وہ معذرت چاہتے ہیں۔

بہاولپور میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں قیام امن کے لئے تمام فریقین سے رابطے میں ہیں اور بات چیت جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے کہا ہے کہ حکومت ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG