رسائی کے لنکس

پچھلے دو دنوں میں یہاں سیاسی گہماگہمیاں اس قدر عروج پر رہیں کہ جمعہ کو شام ڈھلتے ہی سیاسی کارکن گھروں سے نکل آئے اور ہفتہ و اتوار کو رات گئے تک وہ ہنگامہ، نعرے بازی اور شور شرابہ ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔ وہ دھمال ڈالی گئی کہ کیا کسی تہوار پر ہوا ہوگا

عرصہٴ دراز کے بعد، کراچی میں ہفتے اور اتوار کا دن ’سیاسی ویک اینڈ‘ کے طور پر منایا گیا۔ پچھلے دو دنوں میں یہاں سیاسی گہماگہمیاں اس قدر عروج پر رہیں کہ جمعہ کو شام ڈھلتے ہی سیاسی کارکن گھروں سے نکل آئے اور ہفتہ و اتوار کو رات گئے تک وہ ہنگامہ، نعرے بازی اور شور شرابہ ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔ وہ دھمال ڈالی گئی کہ کیا کسی تہوار پر ہوا ہوگا۔

ہفتے کی صبح سے ہی شہر میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماوٴں عمران خان اور سراج الحق کی کراچی آمد کا شور شروع ہوگیا۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے والہانہ انداز میں ان کا استقبال کیا۔ کراچی ائیرپورٹ سے ان کا قافلہ نکلا تو کئی گھنٹوں تک سفر کرتا رہا۔ قافلے کے سبب شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ سمیت شہر بھر میں ٹریفک جام ہوگیا۔

ان کی آمد کے ساتھ ساتھ جب مقامی سیاسی جماعتوں خاص کر متحدہ قومی موومنٹ نے بھی حیدری اور نیو کراچی سمیت شہر کے کئی علاقوں میں کارنر میٹنگ منعقد کیں تو جو سیاسی منظرنامہ نظر آیا اس نے قومی انتخابات کے وقت ابھرنے والے 2013ء کے منظر نامے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

ہفتے اور اتوار کے شب و روز میں شہری جس سڑک سے بھی گزر ے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی ریلی وہاں سے گزرتی نظر آئی۔ ایک ریلی گزرے دیر نہیں ہوتی تھی کہ دوسری ریلی آجاتی تھی۔ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی تو میدان میں تھیں ہی کئی سال کے بعد ایم کیو ایم (حقیقی) بھی سیاسی منظرنامے پر ابھر آئی۔

ایم کیو ایم حقیقی نے سالوں بعد ناصرف شہر کے مختلف علاقوں خاص کر لانڈھی اور لائنز ایریا میں اپنے کیمپس قائم کئے بلکہ ریلی بھی نکالی۔

کراچی کے سیاسی منظرنامے پر پی آٹی آئی کی آمد زیادہ پرانی نہیں بلکہ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں کراچی کے ایک حلقے این اے 246 میں ضمنی انتخابات کے وقت سے پی ٹی آئی نے شہر قائد کا رخ کیا ورنہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پر شہر ی سیاست پر چھائی ہوئی تھی یہاں تک کہ مبصرین یہ بھی کہتے سنائی دیئے کہ شہر پر اس جماعت کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے۔

عمران خان نے کراچی کے دورے میں اپنے خطابات کے دوران اسی پر بار بار ذہن مرکوز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ’یک جماعتی اجارہ داری‘ ختم ہونی چاہئے اور یہ کہ ’میں شہریوں کے لئے متبادل جماعت لے کر کراچی آیا ہوں۔‘

سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دورہ کراچی کامیاب رہا یا نہیں یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ تاہم، جماعت اسلامی کے ساتھ معاہدے سے پی ٹی آئی کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ این اے 246کے ضمنی انتخابات کے وقت پی ٹی آئی کے گلی محلوں کے اندر دفاتر تک نہیں بن سکے تھے اور وہ ایک دو مخصوص علاقوں تک ہی محدود تھی اس بار جماعت اسلامی سے معاہدے کے نتیجے میں پی ٹی آئی شہر کے بے شمار علاقوں تک رسائی حاصل کر گئی ہے۔

تائید کے طور پر نیو کراچی کے رہائشی عبدالوحید نے وائس آف امریکہ کو تبایا کہ ان کے اپارٹمنٹ کے بالکل نیچے اور ایم کیو ایم کے سیکٹر آفس کے بہت قریب پی ٹی آئی نے راتوں رات اپنا الیکشن آفس بنالیا ہے۔ ’پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پی ٹی آئی اس حلقے تک پہنچی ہے۔ شہر میں متحدہ کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کو ہی یہاں تک رسائی تھی اب پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی سے معاہدے کے تحت یہ موقع مل گیا ہے۔‘

عمران خان نے اس بار لیاری کا بھی دورہ کیا جہاں پیپلز پارٹی عرصے سے اپنا ووٹ بینک ہونے کا دعویٰ کرتی آئی ہے اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں۔عمران خان لیاری کے ساتھ ساتھ ابوالحسن اصفہانی روڈ، نارتھ ناظم آباد اور بنارس جیسے علاقوں میں بھی گئے اور لوگوں سے ملے بھی جبکہ ’داوٴد چورنگی‘ پر لوگ ان کے آخری وقت تک منتظر رہے اور جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ عمران خان مصروفیت کے سبب یہاں نہیں آرہے تو لوگ مشتعل ہوگئے یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی کی میئر شپ کے امیدوار علی زیدی کو بھی لوگوں نے ’آڑے‘ ہاتھوں لیا۔

وہ جہاں جہاں بھی گئے، خطاب کیا جبکہ ان کی آمد کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام رہا۔ لیکن، اس دوران کارکنان نعرے لگاتے اور خوشیاں مناتے رہے۔

مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے ویک اینڈ کو ہی چنا۔ وہ اپنے پرانے پارٹی ہیڈ کوارٹر ’بیت الحمزہ‘ بھی گئے اور لانڈھی اور کورنگی کا دورہ بھی کیا۔ ان کے پرستاروں نے ناصرف ان کا استقبال کیا بلکہ انہوں نے جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ بھی لگائے ہوئے تھے جن پر عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی اپنے پارٹی کارکنوں اور عوام سے ویک اینڈ پر متعدد مقامات پر خطاب کیا۔ ان کے خطابات کا مرکزی نکتہ یہ تھاکہ ’کراچی پاکستان کی ماں ہے اور ہم نے اس کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔ اسے ہم دنیا اور عالم اسلام کا ترقی یافتہ شہر بنائیں گے۔‘

پیپلز پارٹی نے بھی اتوار کو شہر میں ریلی نکالی جس کی قیادت مرکزی رہنما شیری رحمٰن نے کی۔ ریلی کا آغاز بلاول چورنگی کلفٹن سے ہوا جو شیریں جناح کالونی، کچھی پاڑا، نیٹی جیٹی برج، آئی سی آئی چورنگی، ماڑی پور روڈ اور گلبائی سے گذرتی ہوئی سپارکو چورنگی پر ختم ہوئی۔ ریلی کے اختتام پرسینیٹر شیری رحمٰن اور دیگر رہنماوٴں نے خطاب بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG