رسائی کے لنکس

متحدہ قومی موومنٹ کے تقریباً ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ’’شہر میں جاری آپریشن کے دوران ان کے کارکنوں کو ناصرف حراست میں لیا جا رہا ہے، بلکہ ایک دیرینہ کارکن آفتاب احمد کی دوران حراست موت سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حراست کے دوران کارکنوں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘‘

اگرچہ متحدہ قومی موومنٹ نے دو روز قبل ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی کامیابی حاصل کرکے خود کو صوبے کی دوسری اور شہر قائد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ سچ کر دکھایا ہے۔ لیکن، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود، متحدہ کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کہتے ہیں کہ ’’شہر میں جاری آپریشن کے دوران ان کے کارکنوں کو نا صرف حراست میں لیا جا رہا ہے، بلکہ ایک دیرینہ کارکن آفتاب احمد کی دوران حراست موت سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حراست کے دوران کارکنوں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘‘

جمعہ کو اظہار الحسن نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کی ’’جماعت سے تعلق رکھنے والے 50سے زائد کارکنان کا ماورائے عدالت قتل ہوچکا ہے، جبکہ سنہ 2013 سے اب تک 135 کارکن لاپتا ہیں۔ ‘‘

سینئر رہنما امین الحق نے وی او اے کو بتایا کہ ’’ہمارے زیرحراست کارکنوں کے بارے میں ہفتوں تک یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اور اگر کسی طریقے سے ان کے بارے میں کچھ معلوم ہوجائے تو والدین تک سے ملاقات نہیں کرائی جاتی۔‘‘

پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ستار کی جانب سے یہ نیا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ شہر میں جاری آپریشن کی نگرانی ہونی چاہئے، کیوںکہ، بقول اُن کے، ’’آپریشن کے دوران ہماری جماعت کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔ لہذا اس کا بھی احتساب ہونا چاہئے‘‘ ۔

آپریشن کے بعد جس مسئلےکا اس وقت متحدہ قومی موومنٹ کو سامنا ہے وہ مصطفیٰ کمال کے الزامات ہیں جو وہ تقریباً ہر پریس کانفرنس میں لگاتے آئے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کئی دہائیوں تک متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے مختلف افراد کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعہ کی پریس کانفرنس میں خواجہ اظہار الحسن نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے کارکنوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرلیں۔

ایک اور رہنما آصف حسنین کا الزام ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں پر مستعفی ہو جانے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

ادھر پی ایس پی کو ہاتھ پاؤں پھیلاتے دیکھ کر متحدہ کی دیرینہ حریف جماعت مہاجر قومی موومنٹ نے بھی ایک مرتبہ پھر متحدہ کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اسی کے تحت بدھ کو مختلف علاقوں میں اپنی جماعت کے حق میں پمفلٹ تقسیم کرائے گئے۔

مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ کے کارکنوں میں جھڑپیں
ادھر مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ کے کارکنوں کے درمیان شہر کے کچھ علاقوں میں گاہے بگاہے جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک کئی کارکن زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ کچھ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔11مئی کو لانڈھی میں ایم کیو ایم کے دفتر پر حملہ کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جبکہ اس سے قبل سات اپریل کے ضمنی انتخابات میں بھی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوچکی ہے۔

ادھر حیدرآباد میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اور اس سے قبل سکھر اور میرپورخاص میں بھی مصطفیٰ کمال کی جماعت اور متحدہ کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور جلاؤ گھیراؤ ہوچکا ہے۔

پیمانہ برداشت لبریز؟
جمعرات کو سینئر رہنما فاروق ستار نے مزار قائد پر اپنی جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کے دوران انتہائی سخت لب و لہجہ اپنایا، یہاں تک کہ کچھ قابل اعتراض الفاظ بھی ادا کئے۔

فاروق ستار اپنے دھیمے لہجے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ لیکن، تجزیہ کاروں کے مطابق، جمعرات کو خطاب کے دوران جو زبان انہوں نے اپنے مخالفین کے لئے استعمال کی اسے سن کر یوں لگتا ہے کہ ’’پیمانہ برداشت لبریز ہو رہا ہے‘‘۔ خود اظہار الحسن کاالزام ہے کہ ’’متحدہ پر ہر طرح سے پابندیاں عائد ہیں، اظہار رائے کی بھی آزادی نہیں۔ ایسے میں یہ حد درجہ دباؤ کسی کا بھی پیمانہ لبریز کرنے کے لئے کافی ہے۔‘‘

کراچی میں مزار قائد کے باہر ’حاضری و فریاد‘ کے عنوان سے ہونے والے اجتماع سے پارٹی رہنما الطاف حسین نے بھی لندن سے ٹیلی فون کےذریعے خطاب کیا جبکہ میڈیا پر کئی ماہ سے ملک بھر میں الطاف حسین کی تقریر اور تصویر نشر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ تاہم، الطاف حسین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سیکورٹی اداروں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل، پاکستانی فوجی حکام نے متحدہ قومی موومنٹ کے رکن آفتاب احمد کی دوران حراست مبینہ تشدد سے موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے؛ جب کہ سندھ رینجرز کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں ممکنہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG