رسائی کے لنکس

کراچی : سیاسی تناوٴ کے خاتمے کے لیے جھنڈے ہٹانے کی مہم


سیاسی جماعتوں کے پرچم اتارے جارہے ہیں

سیاسی جماعتوں کے پرچم اتارے جارہے ہیں

کراچی میں سیاسی حماعتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے، بد امنی اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے محرکات پر قابو پانے کے لیے حکومت سندھ میں شامل اتحادی جماعتوں نے مشترکہ طور پر کراچی میں دیواروں پر سیاسی تحریریں’وال چاکنگ‘ مٹانے اور اپنے پرچم ہٹانے کی مہم شروع کر دی ہے۔

اس مہم کا آغاز جمعہ کو کراچی کے صدر ٹاوٴن سے کیا گیا جہاں حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی دو اہم اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور اے این پی کے کارکنان نے مل کر وال چاکنگ مٹانے کے ساتھ ساتھ اپنی جماعتوں کے پرچم بھی اتارے۔

ملک کے اقتصادی مرکز میں آئے روز سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے جہاں سماجی و معاشی زندگی بری طرح متاثر ہو جاتی ہے وہاں یہ بڑھتا ہوا تناوٴ شہر میں متعدد معصوم لوگو ں کی بھی جان لے لیتا ہے۔ یہ کشیدگی کبھی اشتعال انگیز بیانات سے شروع ہوتی ہے تو کبھی ایک دوسرے کے خلاف وال چاکنگ یا پھر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لہرانے کا مسئلہ اس کا سبب بن جاتا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کراچی میں تازہ پرتشدد واقعات کی ابتدا شہر کی دو جماعتوں کے درمیان پرانی سبزی منڈی کے علاقہ میں اپنی جماعت کے جھنڈے لگانے پر جھگڑے سے ہوئی جس میں ایک سیاسی کارکن بھی ہلاک ہوا۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گذشتہ تین دن کے دوران کراچی میں تشدد کے واقعا ت میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔

جمعرات کو صوبائی حکومت نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا جس میں ان جماعتوں نے ’کوآرڈینیشن‘ کمیٹیاں قائم کرنے ، شہر سے تمام پارٹیوں کے جھنڈے ہٹانے ، وال چاکنگ مٹانے اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنے پر اتفاق کیا۔ ادھر جمعہ کو شہر میں امن و امان کی صورتِ حال نسبتاً بہتر رہی۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں زندگی تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگ جذبات مشتعل کرنے میں اہم کردار کرتے ہیں۔ ایسے میں ان جماعتوں کی جانب سے پہلی بار بدامنی کے ان محرکات کے خاتمے کے لیے یہ مہم کراچی کے شہریوں کے لیے خوش آئند ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سیاسی تناوٴ کے خاتمے کے لیے یہ مہم کس حد تک کامیاب رہتی ہے ۔

ہیومین رائٹیس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے جمعرات کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کراچی میں تشدد کی حالیہ لہر کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام مطلوبہ وسائل بروئے کار لائے۔

XS
SM
MD
LG