رسائی کے لنکس

کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کی دو اہم اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اورعوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) کے درمیان سخت کشیدگی اوردونوں میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید تین اراکین سندھ اسمبلی کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں ۔

ایم کیو ایم کے رکن رابطہ کمیٹی کنور نوید نے پیر کی شام کراچی میں اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ اتوار کے روز کراچی کے علاقے دو تلوار پر منعقدہ عالمی مشاعرے پر فائرنگ کے واقعے میں اے این پی ملوث ہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے حملے آور کی شناخت ہو گئی ہے ۔ اس کا تعلق اے این پی سے ہے “۔

اراکین رابطہ کمیٹی نے الزام لگایا کہ اے این پی کا اقدام شہری امن تباہ کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔اس جماعت کے رہنما ،باچا خان کے فکر و فلسفے کو بھول ہو چکے ہیں ۔انہوں نے صدر آصف علی زردای ، وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مشاعرے پر فائرنگ میں ملوث عناصر کو قرا ر واقعی سزا دی جائے ۔

اس پریس کانفرنس کے رد عمل میں اے این پی کے جنرل سیکریٹری بشیر جان نے مطالبہ کیا کہ مشاعرے پر فائرنگ کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مشاعرے پر فائرنگ سیاسی جماعت کے کارکنان نے خود کی جو سیکورٹی پر مامور تھے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والا شخص ان ہی کی جماعت کا کارکن تھا لیکن اسے جو گولی لگی وہ نائن ایم ایم گن سے فائرکی گئی تھی جو پولیس کے پاس نہیں تھی ۔ بشیر جان نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کو دھمکی آمیز خط لکھنے والے شخص کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق بھی ایم کیو ایم کے ساتھ ہے ۔

ارکان اسمبلی کو دھمکیاں

دوسری جانب پیر کو پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید تین اراکین اسمبلی کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہو ئے ہیں ۔ ایسے ارکان میں شرجیل میمن ،حمیرا علوانی اور حسنین مرزا ( سابق وزیر داخلہ ذوالفقا مرزا کے صاحبزادے) شامل ہیں ۔ یہ خطوط غیر معروف تنظیم ’مہاجر صوبہ لبریشن آرمی ‘کی جانب سے لکھے گئے ہیں ۔خطوط میں کہا گیا کہ مہاجر قوم نے ہر طرح سے سندھ کی وفا داری ثابت کی لیکن سندھ پبلک سروس کمیشن مہاجر دشمن کمیشن بن گیا ہے ۔ مہاجر قوم کا کوئی فرد بھی سی ایس ایس میں کامیاب نہیں ہو رہا ۔ اراکین اسمبلی فوری طور پر اپنے اہل و عیال کے ساتھ کراچی چھوڑ دیں ۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کی 9 تاریخ کو سندھ اسمبلی میں ’مہاجر صوبے‘ سے متعلق وال چاکنگ او ر پوسٹرز کے خلاف قرارداد کے بعد اراکین اسمبلی کو دھمکی آمیز پیغامات( ایس ایم ایس) اور خطوط موصول ہو رہے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ قرارداد پیش کرنے والی مسلم لیگ (ف) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے سامنے آئی تھی ۔ ایک روز قبل صوبائی وزیر سسی پلیجو ، اسٹیوٹا عبدالسلام اور ایم پی اے رائے ناز کو بھی اس قسم کے خطوط موصول ہوئے تھے جس پر صوبائی وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے نوٹس بھی لیا تھا اور حکام کو تحقیقات کی ہدایات بھی جاری کی تھیں ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG