رسائی کے لنکس

کراچی میں ر ینجرز جرائم پیشہ افراد کے خلاف متحرک، کئی علاقوں میں آپریشن


کراچی میں ر ینجرز جرائم پیشہ افراد کے خلاف متحرک، کئی علاقوں میں آپریشن

کراچی میں ر ینجرز جرائم پیشہ افراد کے خلاف متحرک، کئی علاقوں میں آپریشن

قیام امن کے لیے کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ سر جیکل آپریشن جمعہ کو بھی جاری رہا۔ کورنگی، پاک کالونی اورتین ہٹی کے قریب واقع الیاس گوٹھ میں آپریشن کے دوران تقریباً25 مشتبہ جرائم پیشہ عناصر کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا گیا جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک آپریشن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر موجود رہے۔

مکمل اختیارات ملنے کے بعد رینجرز کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف خاصی متحرک ہو گئی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کورنگی کے علاقے بلال کالونی میں رینجرز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر سرچ آپریشن شروع کیا۔ تلاشی کے دوران تیرہ مشتبہ افراد کو اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا۔

آپریشن کے خلاف علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پکڑے جانے والے تمام افراد مزدور پیشہ ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک ، کراچی پولیس کے سربراہ سعود مرزا کے ہمراہ بلال کالونی آپریشن کا براہ راست جائزہ لیتے رہے۔

پاک کالونی کے علاقے ریکسر لائن، بڑا بورڈ اور لیاری ندی کے اطراف میں بھی رینجرز نے نماز فجر کے بعد جرائم پیشہ افراد کے خلاف علاقے کا محاصرہ کرکے آپریشن کیا جبکہ داخلی و خارجی راستوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کے ذریعے تفتیش کے لیے نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

جمعہ کی سہ پہر پولیس نے تین ہٹی کے قریب واقع الیاس گوٹھ میں سرچ آپریشن کیا ۔ آپریشن کے دوران پانچ افراد کوگرفتارکرلیا گیا ۔ اس دوران جرائم پیشہ عناصر کے قبضے سے اسلحہ، بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلیں اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی۔ رینجرز کی جانب سے تاحال گرفتاریوں کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق آج کئے جانے والے سرچ آپریشن میں 71 ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود ڈینسو ہال میں ایک نوجوان کی بوری بند لاش برآمد ہوئی جسے تشدد کے بعد قتل کیا گیا تاہم اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے دعوی کیا ہے کہ آپریشن کے ذریعے سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے لیکن شہریوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ آپریشن بلاتفریق پورے شہر میں کیا جائے۔

ادھر جمعہ کو چکرا گوٹھ کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا تھا کہ شر پسندوں کے خلاف ہر جگہ ایکشن ہو گا لیکن ان علاقوں کا نام ظاہر نہیں کر سکتے ۔ صوبائی وزیر داخلہ منظور حسین وسان نے چکرا گوٹھ میں پولیس چوکی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو امن دینا ہماری پہلی ترجیح ہے، جرائم پیشہ افراد کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے ہو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

قبل ازیں انہوں نے حالیہ پرتشدد واقعات میں چکرا گوٹھ کے متاثرین سے بھی گفتگو کی اور ان کی جلی ہوئی گاڑیوں اور دکانوں کا بھی جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، بعض عناصر اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں لیکن اس میں ملوث افراد کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے ہو ان کے خلاف پہلے بھی کارروائی کی تھی اور اب بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو امن دینا ہماری پہلی ترجیح ہے، حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے رینجرز کے اختیارات میں مزید توسیع کی گئی ہے۔

کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیس بس پر حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور پولیس اہلکار جناح اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جس کے بعد جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کی تعداد4 ہوگئی ہے۔

جمعہ19اگست کی شب کورنگی کے علاقے میں مسلح افراد نے پولیس کمانڈوز کی بس پر فائرنگ کردی تھی جس سے 3پولیس اہلکاروں سمیت 6افراد جاں بحق اور 40افراد زخمی ہوگئے تھے۔ جناح اسپتال میں جاں بحق ہونے والے اہلکار کا نام مشتاق احمد ہے، جس کا تعلق قمبر شہدادکوٹ سے ہے جبکہ دیگرپولیس اہلکار تاحال جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

XS
SM
MD
LG