رسائی کے لنکس

الطاف حسین تک پاکستان کی سفارتی رسائی


الطاف حسین (فائل فوٹو)

الطاف حسین (فائل فوٹو)

لندن میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد عمران مرزا نے ایم کیو ایم کے قائد سے اسپتال میں ملاقات کی۔

برطانیہ نے پاکستان کو الطاف حسین تک رسائی کی اجازت دی ہے جس کے بعد لندن میں قائم مقام ہائی کمشنر محمد عمران مرزا نے ایم کیو ایم کے قائد سے اسپتال میں ملاقات کی۔

پاکستان نے ایک روز قبل الطاف حسین تک رسائی کی باضابطہ درخواست دی تھی۔

اُدھر پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں جمعرات کو معمولات زندگی بحال ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد دوبارہ کاروباری مراکز بند ہونا شروع ہو گئے۔

منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کے بعد منگل کو کراچی میں کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور دیگر اقتصادی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھی۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ کاروبار بند کروانے والوں کا اُن کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے کاروبار بند کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان یا اپیل نہیں کی گئی تھی۔

برطانوی پولیس کی طرف سے حراست کے بعد الطاف حسین کو لندن کے ولنگٹن اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اُن کے طبی تجزیے اور علاج جاری ہے۔

ایم کیو ایم کے ایک بیان کے مطابق الطاف حسین نے لندن میں اپنی جماعت کے ’انٹرنیشنل سیکریٹریٹ‘ فون کر کے رابطہ کمیٹی کے اراکین اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ’ہمت و جرات سے کام لیں ، پرامن رہیں اورقانون کو ہرگز اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔‘‘

پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد الطاف حسین کا لندن سیکریٹریٹ میں اپنی جماعت کے عہدیداروں اور کارکنوں سے یہ پہلا رابطہ تھا۔

اُدھر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے بدھ کی شام قائد تحریک الطاف حسین سے ہونے والی گفتگو کے بعد عوام بالخصوص تاجر اور ٹرانسپورٹ برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سندھ بھر میں معمول کی سرگرمیاں شروع کر دیں۔

تاہم کراچی میں نمائش چورنگی پر ایم کیو ایم کا احتجاجی دھرنا جمعرات کو بھی جاری ہے۔ بدھ کو سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی نمائش چورنگی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں سے ملاقات کی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے برطانیہ میں اپنے ہائی کمیشن کے توسط سے الطاف حسین تک رسائی کی درخواست کی تھی تاہم اس بارے میں تاحال مزید کسی طرح کی معلومات یا ردعمل سامنے نہیں آیا
XS
SM
MD
LG