رسائی کے لنکس

کراچی میں کشیدگی جاری، مزید 7 افراد ہلاک

  • عمیر ریاض

کراچی میں کشیدگی جاری، مزید 7 افراد ہلاک

کراچی میں کشیدگی جاری، مزید 7 افراد ہلاک

ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی شہہ رگ کراچی میں جاری سیاسی کشیدگی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری ہے جس میں مزید 7 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ادھر سندھ کے شہری علاقوں میں اثر و رسوخ کی حامل حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف فوری کاروائی نہ کی گئی تو سرمایہ دار اور تاجر شہر سے اپنا کاروبار سمیٹ کر بیرونِ ملک منتقل ہوجائینگے۔

منگل کے روز ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات نارتھ کراچی، جامع کلاتھ مارکیٹ ، لانڈھی اور قصبہ کالونی کے علاقوں میں پیش آئے۔ کٹی پہاڑی کے علاقے میں ہونے والی فائرنگ سے دو افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مذکورہ علاقوں میں کاروباری مراکز جزوی طور پر بند ہیں اور کشیدگی برقرار ہے۔ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پاک کالونی کے علاقے میں ایک مسافر بس کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کراچی میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے عوام بالخصوص سیاسی کارکنان کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں ایک ہفتے کے دوران لگ بھگ 55 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے کئی کارکن بھی شامل ہیں۔

ادھر کراچی کی سیاسی نمائندگی کی دعویدار حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رہنمائوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی صورتِ حال میں بہتری کے حوالے سے کیے گئے صدر آصف علی زرداری کے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔

پارٹی کی ڈپٹی کنوینر اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائد ڈاکٹر فاروق ستار نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کراچی کے کاروباری طبقے کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے بقول اگر صورتِ حال کا فوری نوٹس نہیں لیا گیا تو خدشہ ہے کہ کاروباری افراد شہر سے اپنا سرمایہ سمیٹ کر بیرونِ ملک چلے جائیں گے۔

صدر آصف علی زرداری کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومتی دعووں پر عمل درآمد کا وقت آگیا ہے اور شہر میں جرائم پیشہ عناصر اور بھتہ مافیا کے خلاف جلد کاروائی کی ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ چند ہفتے قبل بھی ان کی جماعت کو حالات میں بہتری کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں لیکن ان کے بقول عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب باتوں سے کام نہیں چلے گا اور صدر نے جو کہا ہے اس پر عمل کر کے دکھانا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG