رسائی کے لنکس

دھرنے میں موجود رہنماؤں کے مشیرِ مذہبی امور و اوقاف عبدالقیوم سومرو سے مذاکرات کے فوری بعد آرٹلری تھانے میں قید سات افراد کو بھی رہا کردیا گیا۔

اسلام آباد دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی کراچی کا دھرنا بھی بدھ کی رات ختم ہوگیا اور دھرنے کے شرکا حکام کی یقین دہانوں کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ دھرنا ختم کرنے کا اعلان صوبائی مشیر مذہبی امور و اوقاف قیوم سومرو اور دھرنے کے قائدین نے مشترکہ طور پر کیا۔

دھرنا پچھلے تین روز سے جاری تھا جو مشیرِ مذہبی امور اور دھرنے کے قائدین کے درمیان مذاکرات اور یقین دہانیوں کے بعد بلآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔ قیوم سومرو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گرفتار افراد کو رہا کردیا جائے گا جبکہ ان پر دائر کیے گئے مقدمات بھی واپس لے لیے جائیں گے۔

منگل کی شام سے نمائش چورنگی اور اطراف کے علاقے کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیرا ہوا تھا۔ اہلکاروں نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا انتظام کر رکھا تھا جبکہ بدھ کی شام تک وہاں واٹر کینن بھی طلب کرلی گئی تھی تاہم شرکا اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

دھرنے میں موجود رہنماؤں کے مشیرِ مذہبی امور و اوقاف عبدالقیوم سومرو سے مذاکرات کے فوری بعد آرٹلری تھانے میں قید سات افراد کو بھی رہا کردیا گیا۔

ایک اور احتجاج، اساتذہ کے خلاف واٹر کینن کا استعمال

ایک جانب جہاں اسلام آباد اور نمائش چورنگی پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے جاری تھے وہیں بدھ کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاوٴس جانے کے خواہش مند اساتذہ کی پولیس نے نہ صرف واٹر کینن سے دھلائی کر دی بلکہ اسے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا جس سے تین اساتذہ زخمی ہو گئے۔ احتجاج کرنے کے جرم میں آٹھ ٹیچرز کو حراست میں لے لیا گیا۔

اساتذہ آئی آئی چندریگر روڈ سے متصل ڈی جے سائنس کالج سے محکمہ تعلیم میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کے خلاف ریلی کی شکل میں وزیر اعلیٰ ہاوٴس جانے کی کوشش میں تھے تاہم پولیس نے واٹر کینن سے ان کی ’دھلائی‘ کر دی جبکہ لاٹھی چارج بھی کیا اور آٹھ اساتذہ کو حراست میں بھی لے لیا۔

اساتذہ نے الزام لگایا کہ محکمہ تعلیم میں من پسند افراد کو نوکریاں دی جارہی ہیں جس سے ’میرٹ‘ قتل ہورہا ہے۔

دوسری جانب سیکرٹری تعلیم سندھ فضل اللہ پیچوہو کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک حاضری کے بعد اساتذہ کی چوری پکڑی گئی ہے، احتجاج کرنے والے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG