رسائی کے لنکس

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے صورتحال کا ذمے دار تحریک طالبان کو ٹھہرایا ہے۔ان کے مطابق، ایک سازش کے تحت ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے قتل و غارت کی جا رہی ہے

بدھ کادن کراچی کی تاریخ کا عجیب و غریب دن تھا۔ سورج نکلنے کے ساتھ ہی شہر میں گہما گہمی شروع ہوگئی اور لوگ معمولات زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ سب کچھ ویسا ہی ہوگیا جیسا عموماً دنیا کے ہر میٹرو پولیٹن شہر میں ہوتا ہے، حالانکہ 24گھنٹے پہلے یہ شہر سنسان تھا، لوگ خوفزدہ اور پریشان تھے ۔ شہر میں تین ، چار درجن سے زائد گاڑیاں نذر آتش کردی گئی تھیں اور ہنستی کھیلتی درجن بھر انسانی جانیں ضائع ہوگئی تھیں جن میں دو سیاسی کارکن بھی شامل تھے مگر بدھ کی صبح ایسا لگتا تھا کہ جیسے لوگ سب کچھ بھول کر دوبارہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہوں۔

دوپہر اور سہ پہر بھی امن سے گزر گئے لیکن جیسے ہی شام ہوئی مزید 2سیاسی کارکن اندھی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار ان کارکنوں کا تعلق دوسری جماعت سے تھا۔ پہلا کارکن بورڈ آفس کے قریب جبکہ دوسرا کارکن لسبیلہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ ان دونوں کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے بتایا جاتا ہے۔

دونوں کارکنوں کی موت کی خبر کے ساتھ ہی شہر میں ایک مرتبہ پھر بدامنی پھیل گئی اور وہی ہوا جو ایک دن پہلے ہوا تھا ۔ شہر بھر میں ہوائی فائرنگ ہوئی، گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا، کاروبار بند ہوا یہاں تک کہ لوگوں کو گھروں میں قید ہونا پڑا۔ ادھر ہنگامہ آرائی کے سبب ڈرائیورز بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر بھر میں ٹریفک جام ہوگیا۔

پھر جیسے ہی رات کا پہلا پہر شروع ہوا، ہوائی فائرنگ بند ہوگئی، کاروبار زندگی بحال ہونے لگا ، ٹریفک میں روانی آگئی اور لوگ گھروں سے نکل آئے۔ یہ ایک ہی دن میں شہر کا دوسرا روپ تھا۔

آخری خبریں آنے تک ۔۔۔شہر کی صورتحال
بدھ کی نصف شب کو آخری خبریں آنے تک شہر کی صورتحال یہ تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ایک دن کے یوم سوگ منانے کے بعد،کل پھر ایک اور یوم سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ سندھ نے صوبہ بھر میں اسلحہ لے کر چلنے پر ایک بار پھر پابندی کا اعلان کیا ہے مگر اکا دکا فائرنگ کے واقعات جاری تھے۔ پبلک ٹرانسپورٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو گاڑیاں نکالنے کا فیصلہ حالات دیکھ کر کریں گے۔

کچھ تعلیمی اداروں نے جمعرات کو پھر چھٹی کا اعلان کیا ہے خاص کر پرائیوئٹ اسکولوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کل اسکول بند رہیں گے۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے میڈیا سے گفتگو میں واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کارکنان کو پر امن رہنے کی ہدایت کی ہے ۔

شاہی سید نے اپنے پارٹی عہدیدار کے قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اے این پی کے عہدیداروں کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس صورتحال کا ذمے دار تحریک طالبان کو ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تحریک طالبان ملوث ہے ۔

ان کے مطابق ایک سازش کے تحت ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے قتل و غارت کی جا رہی ہے ۔ان کے بقول کراچی میں خیبر پختونخواہ ، ایران اور دیگر اندرونی و بیرونی جگہوں سے اسلحہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات ٹھیک کرنے کے لئے شہر کو اسلحہ سے پاک کرنا ناگزیر ہے ۔

XS
SM
MD
LG