رسائی کے لنکس

کراچی میں کاروبار زندگی معمول پر, ڈبل سواری پر پابندی ختم


کراچی میں کاروبار زندگی معمول پر, ڈبل سواری پر پابندی ختم

کراچی میں کاروبار زندگی معمول پر, ڈبل سواری پر پابندی ختم

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی 10روز قبل لگائی گئی تھی جِس کا مقصدشہر میں امن وامان برقرار رکھنا اورجرائم پر کنڑول پانا تھا لیکن اس پابندی کے باوجود 125سے زائد افراد قتل ہوئے،تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوااور 1سو کے قریب گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا گیا

دوہفتوں کی مسلسل ہنگامہ خیزی اور سیاسی ہلچل کےبعد کراچی میں آج معمول کا دن تھا ۔ تمام کاروبارِ زندگی پہلے کی طرح چلتا رہا ۔ پُر امن صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ منظور وسان نے ڈبل سواری پر پابندی ختم کردی ۔

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی 10روز قبل لگائی گئی تھی جِس کا مقصدشہر میں امن وامان برقرار رکھنا اورجرائم پر کنڑول پانا تھا لیکن اس پابندی کے باوجود 125سے زائد افراد قتل ہوئے،تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوااور 1سو کے قریب گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا گیا۔

کراچی میں 11لاکھ موٹر سائیکل سواروں کے ہمراہ ڈبل سواری کی حیثیت سے سفر کرنے والے 11لاکھ سے زائد شہری بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی مد میں روزانہ کم از کم 3کروڑ روپے سے زائد کرایہ کی مد میں دینے پر مجبور ہوئے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں15لاکھ سے زائد شہری ڈبل سواری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔اس دوران ڈبل سواری کی پابندی کی خلاف ورزی پر درجنوں افراد کوگرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب صوبے بھر میں آتش بازی کے سامان اور پٹاخوں کی خریدو فر وخت پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ محکمہ داخلہ سندھ نے اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔

اتوار کی رات ملک بھر میں شب برأت منائی جائے گی ۔ اس رات نوجوان آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔آتش بازی سے آگ لگنے کے متعدد واقعا ت میں لاکھوں روپے کا سامان جل جاتا ہے جبکہ ہوائی فائرنگ سے انسانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG