رسائی کے لنکس

کراچی میں4 ہزار افراد کی حفاظت کے لئے صرف1پولیس اہلکار

  • کراچی

سندھ پولیس کی جانب سے اجلاس میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ایک ہزار 732 افراد قتل ہوئے جن میں سے306 افراد کو نشانہ لے کر قتل کیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چار ہزار 255 شہریوں کے تحفظ کیلئے صرف ایک پولیس اہلکار تعینات ہے جبکہ ایک لاکھ 78 ہزار 571 لوگوں کیلئے صرف ایک تھانہ قائم ہے۔شہر میں جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

یہ انکشافات جمعرات کو کراچی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سامنے آئے۔ سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرمین ریاض فتیانہ نے کی۔

سندھ پولیس کی جانب سے اجلاس میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ایک ہزار 732 افراد قتل ہوئے۔ 306 افراد کو نشانہ لے کر قتل کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں 120 سیاسی کارکن اور 65 پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد اور ایڈیشنل آئی جی فلک خورشید نے پولیس کی حالت زار سے شرکا کو آگاہ کیا۔ ان کے مطابق، شہر میں بارہ تھانے قائم ہیں جن میں صرف چار ہزار سات سو پولیس اہلکار مقرر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریبا دو کروڑ آبادی رکھنے والے شہر میں چار ہزار 255 شہریوں کے تحفظ کیلئے صرف ایک اہلکار تعینات ہے اور ایک لاکھ 78 ہزار 571 لوگوں کیلئے صرف ایک تھانہ قائم ہے۔



پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ جرائم پیشہ افراد کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے کے مطابق شہریوں سے روزانہ ایک ہزار موبائل فون اسلحہ کے زور پر چھین لیے جاتے ہیں۔ گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک سال میں تین ہزار بچے لاپتہ ہوگئے۔

مذکورہ انکشافات اور اعدادو شمار سے کراچی میں میں پہلی بار منعقدہ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اراکین انتہائی افسردہ نظر آ ئے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ نے سینٹرل ڈیٹا بیس بنانے ،شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے ،پولیس نفری کی تعداد بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ کی مدد لینے کی سفارشات کی ہیں۔

صوبائی وزارت داخلہ کے مشیر شرف الدین میمن نے اجلاس میں شرکا کو یقین دہانی کرائی کہ تین ہفتوں میں شہر کے مختلف علاقوں میں نو سو کیمرے لگائے جائیں گے تاکہ شر پسندوں پر نظر رکھی جا سکے اورجلد ہی گواہوں کوتحفظ فراہم کرنے سے متعلق قانون سازی بھی کی جائے گی۔


تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG