رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ: کراچی بدامنی کیس میں عبوری فیصلہ جاری


حکم نامے میں غیر قانونی اسلحے کی کراچی آمد سے متعلق حقائق جاننے اور اس کے ذمے داروں کے تعین کے لئے کمیشن کے قیام کی ہدایات جاری کی گئی ہیں

کراچی ۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی سے متعلق جاری مقدمے کا عبوری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔ عدالت نے جمعے کے روز جاری اپنے تحریری حکم نامے میں غیر قانونی اسلحے کی کراچی آمد سے متعلق حقائق جاننے اور اس کے ذمے داروں کے تعین کے لئے کمیشن کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری میں جاری سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اطہر سعید اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل لارجر بینچ کے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے سابق رکن کسٹم رمضان بھٹی کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ بحری جہازوں اور لانچوں کے ذریعے اسمگلنگ کا ذمے دار کون ہے۔

عدالت نے کسٹم حکام کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کی جائے کہ لانچوں اور بحری جہازوں کے ذریعے اسلحہ لانے کا ذمہ دار کون ہے اور سابق وفاقی وزیر جہاز رانی کے دور میں جو اسلحے کا جہاز کراچی آیا تھا کہاں گیا۔

کمیشن کو چار روز میں اپنی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سماعت کے موقع پر، اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہر میں مکمل امن بحال کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کریں گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے گی۔

سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی کی بدامنی میں کالا دھن استعمال ہورہا ہے جسے روکنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

اس سے قبل، جمعے کو ہی ڈی جی رینجرز نے رپورٹ پیش کی کہ ٹارگٹ کلنگ میں غیر ملکی 30 بور اور نائن ایم ایم کااسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ آئی جی سندھ نے بیان میں کہا کہ جمعرات کے روز 13 افراد قتل ہوئے جن میں تین ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔

بعد ازاں، عدالت نے مقدمے کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
XS
SM
MD
LG