رسائی کے لنکس

شہر کراچی میں ہونے والی ایک روزہ ’سوشل میڈیا سمٹ‘ میں پاکستان کی سیاست، صحافت اور کھیل سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی میں سماجی میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اہمیت کے حوالے سے مختلف نشستوں میں تبصرے پیش کئےگئے

کراچی: ​سندھ کے دارالحکومت، کراچی میں ایک روزہ سماجی میڈیا سربراہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کے کردار اور اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی۔

تقریب میں موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ کے استعمال اور سوشل میڈیا اور عام زندگی سے لے کر صحافت جیسے شعبے میں جگہ بنانے والی سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس کے بارے میں ایک جائزہ پیش کیا گیا۔

سمٹ کا آغاز پاکستان میں کھیلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا کے کردار پر تبصرے سے کیا گیا، جس میں شعبہٴکھیل سے منسلک ماہرین نے سوشل میڈیا صارفین کی کھیلوں میں دلچسپی کو نمایاں کیا۔

سوشل میڈیا کے سیاسی کردار کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کی سیاست میں سوشل میڈیا سائٹس نے ایک عام صارف کو صحیح یا غلط انداز میں سیاست کے بارے میں آزادی رائے کا حق پیش کیا ہے۔

سیاست میں سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے متعلق سیشن میں پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی اور ایم کیو ایم کے رہنما فیصل رضا عابدی نے شرکت کی۔ اس نشست میں سیاستدانوں کا عام صارفین سے براہ راست رابطے اور سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے تبصرے کئےگئے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد سیاسی جماعتوں کی سپورٹر کے طور پر سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں موجود ہے۔

سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے مختلف صفحات اور پروفائل موجود ہیں، جنھیں اب تک ہزاروں صارفین فالو اور کمنٹ کرتے رہے ہیں؛ پاکستانی سیاست میں سوشل میڈیا نے سیاست کو فروغ دینے اور خصوصی الیکشن کے دوران نئے خد و خال کو پیش کیا ہے۔

اگلے سیشن میں صحافت کے شعبے میں سوشل میڈیا کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ اس سیشن میں شریک میڈیا ہاؤسز سے منسلک ممبران نے مختلف پہلوؤں سے صحافت میں ٹوئٹر، فیس بک اور دیگر سائٹس کے استعمال پر تبصرے کئے گئے۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ بہت سی خبریں، بریکنگ الرٹ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آتی ہیں، جبکہ ایک صحافی کیلئے بھی اِن سائٹس سے منسلک رہنا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب عام آدمی ہو یا اہم شخصیات ان کی ٹوئٹس اور سوشل میڈیا بیانات اور تبصرے بھی خبر کی صورت مین سامنے آنے لگے ہیں؛ ہر میڈیا ہاوس کا اپنے سوشل میڈیا پروفائل صفحات ہیں، اب لوگ ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں فاولورز موجود ہیں جہاں خبر بروقت صارف تک پہنچ رہی ہے، بلکہ میڈیا ہاؤسز میں کام کرنےوالے صحافیوں کے مختلف پروفائل بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کو صحافیوں کیلئے باقاعدہ ٹریننگ بھی ضروری ہے، تاکہ اسکے بروقت اور مفید نتائج سامنے آسکیں۔

دوسری جانب، اردو زبان کے کردار کو سوشل میڈیا پر ملنے والی نئی پہچان اور اہمیت کو بھی موضوع گفتگو بنایا گیا۔ نشست میں شریک اردو بلاگرز نے اپنے تبصرے میں کہا کہ اردو زبان کو سوشل میڈیا کی مختلف سائٹ پر پیش کیا جا رہا ہے، جو اردو زبان کے فروغ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اردو زبان کو مختلف سوشل سائٹس، ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز ویب سائٹ پر پیش کیا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اردو زبان کے بلاگرز کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اب اردو زبان کے فروغ میں اضافہ ہوا ہے۔۔۔لوگوں میں اردو کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

موبائل فون پر مختلف ایپلیکیشن پر کام کیا گیا ہے اور کام ہو رہا ہے۔​ اردو زبان میں اسکے فونٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک عام اخبار پڑھنےوالے عام فرد کو سوشل میڈیا پر اردو پڑھنے اور لکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، کیونکہ اسکا فونٹ اخبار جیسا نہیں ہوتا۔۔۔ جسکے لئے، مختلف سائٹس کو اردو تستعلیق فونٹ میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

اجلاس کے منتظم، علی چشتی نے بتایا کہ ’سوشل میڈیا سمٹ کے انعقاد کا مقصد مختلف عنوانات پر شخصیات کو مدعو کرنا تھا۔ یہاں پاکستان کے مختلف شعبوں کے افراد عام عوام کےساتھ ملکر تبصرے کرتے ہیں جسمیں عوام نہ صرف دلچسپی لیتے ہیں، بلکہ اپنی رائے بھی پیش کرتے ہیں۔ پاکستان مین سوشل میڈیا کا رول بہت بڑا ہے۔ یہ پلیٹ فارم رابطے بحال کرنے اور نئے رابطے پیدا کرنے کا اہم جز بن چکا ہے‘۔

تقریب کے دوران سیاست، کھیل، صحافت سمیت دیگر شعبہ زندگی میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج اور ایک عام آدمی کا ان سائٹس سے منسلک رہنے سمیت سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت۔ مختلف عنوانات کے حوالے سے سیشنز منعقد کئےگئے جسمیں پینل ڈسکشنز میں مختلف عنوان پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

XS
SM
MD
LG