رسائی کے لنکس

کراچی: پرتشدد واقعات اور جرائم کے خلاف جزوی ہڑتال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مجموعی طور پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں گزشتہ دو روز کے دوران دودرجن سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ایک بار پھر تیزی آجانے کے خلاف بدھ کو کراچی کے زیادہ تر حصوں میں جزوی ہڑتال اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔

بیشتر کاروباری مراکز بند رہے جب کہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہی۔ پیٹرول اور سی این جی پمپ بند ہونے کی وجہ سے نجی ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم رہی۔

ہڑتال کی اپیل جماعتِ اسلامی نے اپنے ایک رہنما ڈاکٹر پرویز محمود کی ہلاکت کے خلاف کی تھی جنہیں ایک ساتھی سمیت پیر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے ہدف بنا کر قتل کردیا تھا۔

ڈاکٹر پرویز جماعتِ اسلامی کی ضلعی حکومت کے دوران 2001ء سے 2005ء تک کراچی کے لیاقت آباد ٹاؤن کے ناظم رہے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ بعض علاقوں میں مشتعل افراد نے زبردستی دکانیں بند کرائیں جب کہ ہوائی فائر نگ بھی کی گئی۔ شہر میں بدھ کو دن بھر پرتشدد واقعات کا سلسلہ بھی جاری رہا اور شام تک پولیس نے ان میں کم ازکم 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

مجموعی طور پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں گزشتہ دو روز کے دوران دودرجن سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تشدد اور ہڑتالوں سے نالاں تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور خراب امن و امان کی صورت حال نے ان کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ایک دن کی ہڑتال کےنتیجے میں شہر کی معیشت کو لگ بھگ تین ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کی تازہ لہر ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف کراچی سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ شہر میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں اب تک ہزاروں سیاسی کارکن اور عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

تجزیہ کار اور حزبِ اختلاف کے حلقے اس ٹارگٹ کلنگ کو حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی باہمی چپقلش اور مختلف سیاسی قوتوں کے مابین جاری شہر پر قبضے کی جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG