رسائی کے لنکس

سیلاب متاثرین کی مدد میں مصروف غیر ملکی خاتون


سیلاب متاثرین کی مدد میں مصروف غیر ملکی خاتون

سیلاب متاثرین کی مدد میں مصروف غیر ملکی خاتون

پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں حصہ لینے والوں کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس خطے سے ہے جہاں بلا تقریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت اولین ترجیح سمجھی جاتی ہے۔

سوزین کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور وہ سعودی عرب میں طب کے شعبہ سے وابستہ ہیں لیکن اپنی سالانہ چھٹیوں کو منسوخ کرکے ان دنوں کراچی میں قائم ایک کیمپ میں مقامی فلاحی ہسپتال کے توسط سے سیلاب سے متاثر ہ لوگوں کو طبی امداد دینے میں مصروف ہیں۔

سوزین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں یہ ایک بہت بڑی تباہی ہے جس نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ ”میں کیسے تعطیل پر جا کر اچھا وقت گزار سکتی ہوں جب میں جانتی ہوں کہ کہیں کسی اور ملک میں میرے دوست تکلیف میں ہیں۔ یہ اچھا نہیں لگے گا اسی لیے میں نے واپس نیوزی لینڈ جانے کے بجائے اپنی چھٹیاں ان لوگوں کے لیے وقف کردیں۔ “

کراچی کے علاقے سائٹ میں قائم اس کیمپ میں تین ہزار سے زائد متاثرین ہیں جن کا تعلق سندھ کے شہر سجاول ، شہداد کوٹ اور جیکب آباد سے ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے قائم اس کیمپ میں شہر کے مخیر حضرات اور طبی امداد دینے والے فلاحی ادارے یہاں دن رات لوگوں کی مدد کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صوبائی حکام کے مطابق سیلاب سے صرف صوبہ سندھ کے 19 اضلاع متاثر ہوئے جن میں17 کو آفت زدہ قرار دیا گیا جہاں بڑے پیمانے پر زرعی زمینوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر سے دربدر ہونے کے علاوہ اپنے مویشیوں اور املاک سے بھی ہاتھ دھوناپڑا۔

سوزین کہتی ہیں کہ میں یہاں صرف مدد کرنے آئی ہوں۔میرے بہترین دوست کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ جدہ میں ڈاکٹر ہیں۔ ”میں ان کو کہتی ہوں کہ اگر میں یہاں آکر صرف ایک شخص کی ہی مدد کر لوں صرف ایک شخص کا ہی دل جیت لوں تو میں نے اپنا فرض ادا کردیا۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں اور میں سب کی مدد نہیں کرسکتی لیکن جتنے لوگوں کی میں مدد کرسکوں اس کے بعدسعودی عر ب واپسی کا سفر میرا اطمینان بخش اور پر سکون ہوگا کہ میں تھوڑا ہی سہی پر کچھ کرسکی ہوں۔ “

سوزین اس سے قبل کئی ممالک میں ذاتی طور پر اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ پاکستان میں مزید آٹھ روز قیام کریں گی ۔ ان کے بقول یہ ایک انسان کی دوسرے انسان کے لیے مدد ہے اور ہر شخص کو کرنی چاہیئے ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر نیوزی لینڈ میں ایسا کوئی المیہ ہوتا تو وہ دوسرے ممالک سے توقع کرتیں کہ وہ آئیں اور مدد کریں۔

سوزین

سوزین

سوزین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ہمارا مذہب، رنگ ،نسل اور ہماری پالیسیاں کیا ہیں ۔ ہمیں ایک دوسرے کومسکراہٹ دینے کے ساتھ اور درگزر کرنے کا جذبہ رکھنا چاہیئے۔ ان کے بقول رمضان کا مہینہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں اور اس مبارک مہینے کی یہ روح لوگوں کے دلوں میں سال کے 365 دن رہنی چاہیئے کیوں کہ دنیا کا ہر ملک کسی نہ کسی بحران کا شکار ہے ۔ غربت ہر جگہ ہے لیکن غربت کو ختم کرنے کے وسائل بھی اسی دنیا میں موجود ہیں اور ہمیں ان مسائل کا حل اپنے دلوں میں تلاش کرنا چاہیئے ۔

XS
SM
MD
LG