رسائی کے لنکس

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری، مزید 6 افراد ہلاک


کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری، مزید 6 افراد ہلاک

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری، مزید 6 افراد ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے تازہ واقعات میں گزشتہ تین گھنٹوں کے دوران چھ افراد کو ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے تازہ واقعات کا سلسلہ اورنگی ٹائون سے شروع ہوا جہاں بدھ کی شام نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ہدف بنا کر تین افراد کو قتل کردیا۔

حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کارکنان کو نشانہ بنا کر ایم کیو ایم کو پنجاب میں سیاست کا آغاز کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

اورنگی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے پرانی سبزی منڈی کے علاقے میں ایک سیاسی جماعت کے دفتر پر فائرنگ کی جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا جسے اس کے ساتھی اپنے ہمراہ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔

نیو کراچی اور بھینس کالونی کے علاقوں میں بھی نامعلوم مسلح ملزمان نے دو افراد کو ہدف بنا کر قتل کردیا ہے جبکہ لیاقت آباد کے علاقے میں ہونے والی فائرنگ سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

اس سے قبل شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعات میں بدھ کی شام تک ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے تھے جنہیں طبی امداد کیلیے شہر کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتیں گلستانِ جوہر، ایوب گوٹھ، اورنگی ٹائون اور لی مارکیٹ کے علاقوں میں ہوئیں تھیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والے سندھ کی صوبائی وزارت داخلہ کی ایک خفیہ تفتیشی رپورٹ میں شہر میں ہدف بنا کر سیاسی کارکنوں کو قتل کرنے کے واقعات میں حکومت کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت بعض کالعدم مذہبی تنظیموں کو ملوث قرار دیا گیا تھا۔

تاہم ایم کیو ایم اور اے این پی کی جانب سے رپورٹ میں عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جاچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG