رسائی کے لنکس

کراچی میں سیاسی رنجش اور ٹارگٹ کلنگ کا نیا رخ، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی


کراچی میں سیاسی رنجش اور ٹارگٹ کلنگ کا نیا رخ، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی

کراچی میں سیاسی رنجش اور ٹارگٹ کلنگ کا نیا رخ، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی

کراچی میں سیاسی جماعتوں کی آپسی رنجش اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے منگل کوایک نیارخ لے لیا ہے۔ کراچی کی تین بڑی سیاسی قوتیں تو آپس میں دست وگریباں تھیں ہی اب ان جماعتوں کے طلبہ ونگ بھی سر عام میدان میں آگئے ہیں۔ منگل کو یونیورسٹی روڈ پر واقع وفاقی اردویونیورسٹی سائنس کیمپس میں شہر کی دو سیاسی جماعتوں کے درمیان اچانک تصادم شروع ہوگیا جس نے بڑھتے بڑھتے خطرناک روپ اختیار کرلیا۔ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے پولیس انسپکٹر احمد علی ، ایک طالب علم فدا کاکڑ اور 2راہ گیر رمیز اور ولی محمد زخمی ہوگئے ۔

واقعے کے زخمیوں کوجب لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تو ایک جماعت کے کارکن وہاں بھی پہنچ گئے ۔اسپتال کے سیکورٹی گارڈز نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کے بعد معاملہ مزید بگڑگیا۔ مشتعل افرادنے ہوائی فائرنگ شروع کردی جس سے ناصرف اسپتال میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا بلکہ بھگدڑ بھی مچ گئی۔ اس دوران اسپتال کے محافظ روم اور مانیٹرنگ روم میں توڑ پھوڑ ہوئی جس پر اسپتال انتظامیہ کو پولیس بلانا پڑی۔

یہ اس حوالے سے اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے کہ اب تک جتنے بھی طلبہ تنظیموں میں تصادم ہوئے ہیں ان میں کبھی بھی اس انداز میں اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ناہی تصادم میں ملوث تنظیموں کے اتنے حوصلے بلند تھے کہ وہ یوں کھلے عام کالج کی حدود سے باہر معاملات خراب کرسکتیں۔

دوسری جانب پیر کی شب سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آج مزید پانچ افراد کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعدادمنگل کو رات دس بجے تک 18 ہوگئی تھی۔

منگل کو اورنگی ٹاوٴن کے مختلف علاقوں میں پورا دن وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ واٹرپمپ کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ کٹی پہاڑی پر قائم رینجرز کی چوکیاں خالی کروا لی گئی ہیں جن پر مسلح افراد نے قبضہ کر لیا جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ۔

ادھر امن و امان کی سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لئے گورنر سندھ کی دعوت پردونوں سیاسی جماعتوں کے اراکین کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد حالات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے ۔دونوں جماعتوں کی جانب سے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے گا اور شہر میں امن و امان کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی ۔

XS
SM
MD
LG