رسائی کے لنکس

کراچی میں پچھلے کچھ ہفتوں سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کا آپریشن جاری ہے۔ آپریشن شروع ہونے کے بعد سے ٹارگٹ کلنگ میں قابل ذکر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، پیر کو اچانک اس میں تیزی آگئی اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 14 افراد کو موت کا نشانہ بننا پڑا

کراچی میں تقریباً دو ہفتوں تک نسبتاً کمی کے بعد پیر کو ایک مرتبہ پھر ٹارگٹ کلنگ میں تیزی آگئی ہے اور 14 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں دو سگے باپ بیٹے بھی شامل ہیں۔

ادھر لیاری میں رینجرز نے ٹارگٹ کلرز سمیت دیگر جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے آپریشن کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران، پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ کی گرفتاری کے لئے ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا لیکن وہ گھر پر نہیں تھے۔

نامعلوم افراد کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ اور لاشیں ملنے کے واقعات گلستان جوہر، لیاری، مین یونیورسٹی روڈ، پیر آباد، اورنگی ٹاوٴن اور کلری میں پیش آئے۔

ایس ایچ او شارع فیصل راوٴ ظہیر کے مطابق، پولیس کو گلستان جوہر بلاک 17میں ایک مشکوک گاڑی سے تین نوجوانوں کی لاشیں بھی ملیں جنہیں اغوا کرنے کے بعد فانرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

کراچی میں پچھلے کچھ ہفتوں سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کا آپریشن جاری ہے۔ آپریشن شروع ہونے کے بعد سے ٹارگٹ کلنگ میں قابل ذکر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، پیر کو اچانک اس میں تیزی آگئی اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 14 افراد کو موت کا نشانہ بننا پڑا۔

رینجرز کے ترجمان کے مطابق، شہر کے13 مختلف علاقوں میں پیر کو ٹارگٹڈ آپریشنز کئے گئے جن کے دوران 150سے زائد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ملزمان سے رینجرز نے اسلحہ اور منشیات بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترجمان رینجرز کے مطابق کارروائیاں فیڈرل بی ایریا، رانگڑ پاڑا، علی بروہی گوٹھ، لائنز ایریا، ڈسکو بیکری، ضیاء الحق کالونی ،ہریانہ کالونی، گودھرا، موسیٰ کالونی، قائدآباد، طارق بن زیاد سوسائٹی اور نارتھ ناظم آباد میں کی گئیں۔ گرفتار ملزمان جرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔
XS
SM
MD
LG