رسائی کے لنکس

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 170 پولیس اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی پولیس کے سربراہ غلام حیدر جمالی نے بدھ کو بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے جرائم میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز کا ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ جاری ہے۔

اس عرصے کے دوران دہشت گرد حملوں میں جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا جاتا رہا وہیں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکار بھی شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کا نشانہ بنیں۔

کراچی پولیس ترجمان عتیق شیخ کے مطابق شہر بھر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران اب تک 170 پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 123 اہلکار رواں سال کے پہلے نو ماہ میں مارے گئے۔

پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سمیت شہر کے متعدد تھانوں اور پولیس کے کئی قافلوں کو بھی دستی بم حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ کراچی میں پولیس پر سب سے زیادہ حملے شہر کے علاقے اورنگی میں دیکھے گئے۔

اورنگی ٹاؤن میں پولیس کے سربراہ ایس ایس پی ساجد سدوزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایاکہ اورنگی ٹاون میں شہرکی نسبت زیادہ تعداد میں مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند سرگرم ہیں جو پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان کے بقول دیگر شہروں کے اکثر دہشت گرد بھی اس علاقے میں موجود ہیں دوسری جانب اورنگی ٹاون کے زیادہ تر پولیس اہلکار اسی علاقے کے رہائشی بھی ہیں، جس کے باعث دہشت گرد انھیں با آسانی ہدف بناکر قتل کررہے ہیں ۔

"پولیس اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی کارروائی جاری ہے اور آپریشن کے دوران درجنوں شدت پسند مارے بھی جاچکے ہیں"۔

ادھر کراچی پولیس کے سربراہ غلام حیدر جمالی نے بدھ کو بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے جرائم میں کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG