رسائی کے لنکس

کراچی میں رکن اسمبلی کے قتل کے بعد ہنگامے،29 افراد ہلاک

  • عمیر ریاض

رواں سال کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں (فائل فوٹو)

رواں سال کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں (فائل فوٹو)

رکن سندھ اسمبلی رضا حیدرکی ہلاکت کے بعد شہر بھر میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔ تشدداور فائرنگ کے واقعات میں اب تک کم ازکم انتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کراچی میں ایک حکومتی جماعت کے رہنما کی ہلاکت کے بعد شہر بھر میں ہونے والے ہنگاموں اور جلائو گھیراؤ کے واقعات میں اب تک کم ازکم شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ چالیس سے زائد گاڑیوں اور کئی نجی املاک کوبھی نذرِ آتش کردیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ مرکز اور صوبے میں حکمران اتحاد میں شامل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما و رکنِ صوبائی اسمبلی رضا حیدر کوکراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر دو میں نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا جب وہ ایک جنازے میں شریک تھے۔ فائرنگ میں ان کا ایک سرکاری باڈی گارڈ اور ایک نوجوان راہگیر بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

رضا حیدر کے قتل کے بعد شہر بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے جن میں اب تک کم ازکم انتیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ شہر کے چیف پولیس سرجن نے 29 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، کورنگی، اورنگی ٹاؤن،لانڈھی، سائٹ، شاہ فیصل کالونی، ملیر، ناظم آباد اور نارتھ کراچی میں پیش آئے جن میں اب تک پچیس افراد جاں بحق اور چالیس سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

شہر کے سب سے بڑے اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے حکّام کے مطابق اسپتال کی ایمرجنسی میں اب تک دس لاشیں اور چونتیس زخمی لائے جاچکے ہیں جن میں سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

شام گئے رضا حیدر کے قتل کی خبر پھیلتے ہی شہر کے کئی علاقوں میں ہونے والی شدید ہوائی فائرنگ نے دفتروں سے گھر لوٹتے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا۔ شہر کے تمام کاروباری علاقے اور پیٹرول پمپ بند ہوگئے جب کہ شہر کی اہم شاہراہوں، ایم اے جناح روڈ، شاہراہِ پاکستان، شاہراہِ فیصل اور یونیورسٹی روڈ پر بد ترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا جبکہ بیشتر چوراہوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے پر مامور ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی اپنی جگہوں سے غائب تھے۔

مشتعل افراد نے کورنگی کے علاقے میں ایک پیٹرول پمپ، دو ہوٹل اور کئی دکانوں کو آگ لگادی۔ گلستانِ جوہر کے علاقے میں ایک فرنیچر مارکیٹ اور شاہ فیصل کالونی گیٹ پر واقع کئی دکانوں کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا۔ نامعلوم افراد نے لیاقت آباد سپر مارکیٹ کی کئی دکانوں، نارتھ کراچی میں واقع قالین مارکیٹ اور شہر کے کئی علاقوں میں متعدد ٹھیلوں کو بھی آگ لگادی۔ جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں اب تک چالیس سے زائد گاڑیاں اور کئی موٹرسائیکلز بھی جلائی جاچکی ہیں۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کردی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہر میں گشت کرنے کے علاوہ تلاشی کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ شہر کی بیشتر سڑکیں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

کشیدگی سے سندھ کے کئی دیگر علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں واقع کی اطلاع ملتے ہی مسلح افراد نے کئی علاقوں میں شدید فائرنگ کی اور دکانیں اور کاروباری مراکز بند کرادیے۔ شہر کے علاقے ہالا ناکہ پر نامعلوم افراد نے ایک مسافر بس کو بھی نذرِ آتش کردیا۔

ٹنڈوجام شہر کے مین چوک پر نامعلوم مشتعل افراد نے ایک سوزکی پک اپ کو آگ لگادی جبکہ میرپورخاص، نوابشاہ اورسکھر سے بھی ہنگامہ آرائی اور ہوائی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مسلح افراد نے مذکورہ شہروں میں کاروباری مراکز بند کرادیے جبکہ شہری خوف و ہراس کا شکار ہوکر اپنے گھروں تک محدود ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے برطانیہ میں مقیم قائد الطاف حسین نے کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے صوبہ بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ آل کراچی تاجر اتحاد نے ہنگامہ آرائی پر احتجاج کرتے ہوئے کل شہر بھر میں شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ حکومتِ سندھ کے ایک اعلامیہ کے مطابق کشیدہ حالات کے پیشِ نظر کل بروز منگل کراچی اور حیدرآباد کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے کل ہونے والے امتحانی پرچے بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG