رسائی کے لنکس

کراچی میں سیاسی کشیدگی برقرار اور امن و امان کی صورتحال بدستور خراب


کراچی میں سیاسی کشیدگی برقرار اور امن و امان کی صورتحال بدستور خراب

کراچی میں سیاسی کشیدگی برقرار اور امن و امان کی صورتحال بدستور خراب

کراچی میں امن وامان کی خراب صورتحال نے مرکز اور صوبے میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اس کی ایک اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اختلافات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے اور دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں کے باوجود شہر میں سیاسی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ملک کی معیشت کی شہ رگ سمجھے جانے والے اس شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات گذشتہ جمعے کو شروع ہوئے تھے اور اب تک پولیس اور ہسپتال ذرائع نے کم ازکم 45افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ درجنوں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم کے ممبران نے دوسرے روز بھی سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور وزیرِ بلدیات سندھ آغا سراج درانی اپنے مبینہ قابل مذمت رویے پر معذرت نہیں کریں گے اجلاس کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

تاہم صوبائی وزیر آغا سراج درانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پروہ معذرت خواہ ہوں لیکن وہ مفاہمتی رویہ اختیار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو بائیکاٹ ختم کرکے ایوان کے اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اختلاف رائے کامطلب یہ نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں ۔

واضح رہے کہ منگل کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان کراچی کی صورتحال پر تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ایم کیو ایم نے یہ کہہ کر اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دو صوبائی وزراء کے بیانات اشتعال انگیز ہیں اور ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایم کیو ایم اراکین کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک د وسرے کو کراچی میں پر تشدد واقعات کا ذمہ دار قرار دینے کے بعد اشتعال انگیز بیا نات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ کراچی میں پر تشدد واقعات سیاسی ہیں اور اگر انھیں موقع ملے تو ان کے بقول وہ غنڈہ گردی میں ملوث تمام سیاست دانوں کو پھانسی پر چڑھا دیں۔ جبکہ وزیر ِ بلدیات آغا سراج نے ناظمین کوبلدیاتی الیکشن سے پہلے اپنا علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا۔ بعد میں اس صورتحال پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی شہر میں ہونے والے خون خرابے کی ذمہ دار ہے اور تشدد کے ذریعے کراچی پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی جس میں دونوں جانب سے اتحاد برقرار رکھنے اور اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ بند رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔دوسری جانب پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے صد اور وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک بدھ کو کراچی پہنچے ہیں جہاں ان کی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے منگل کو سندھ حکومت نے رینجرز کو 26 تھانوں کی حدود میں ایک ماہ کے لیے بغیر وارنٹ چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دے دیے ہیں ۔تاہم شہر میں پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار ہے اور اورنگی ٹاوٴن سے شروع ہونے والے مسلح تصادم کا سلسلہ اب شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ بدھ کو بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں کاروبار بند ہے اور خوف و ہراس کے باعث معمولات زندگی بھی متاثر ہیں۔

XS
SM
MD
LG