رسائی کے لنکس

”تھیٹرمحض تفریح نہیں معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے“


”تھیٹرمحض تفریح نہیں معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے“

”تھیٹرمحض تفریح نہیں معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے“

دنیا بھر میں تھیٹرز یا اسٹیج شوز کو معاشرے کے سدھار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ایک بڑا حلقہ اسے محض کھیل یا تفریح کے طور پر لیتا ہے۔ یہی وجہ کہ یہاں تھیٹرز کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کا ایک مخصوص حلقہ ہے اور عام لوگوں میں اسے وہ مقبولیت اوراہمیت حاصل نہیں جو دیگر ممالک میں ہے۔ ایسے میں لوگوں کو تھیٹرز تک لانے کے لیے بہت سے غیر سرکاری ادارے اور اداکار اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں اور پر امید بھی کہ ان کی کاوشوں سے اسٹیج شوز اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہو سکے گا۔


Thespianz Theater موسیقی رقص اور تھیٹر کی ترویج کے لیے غیرمنافع بخش ادارہ ہے اور ساتھ ہی یہ ادارہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تھیٹر ایسوسی ایشن کا رکن بھی ہے اور پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کے لیے کئی سالوں سے سرگرمِ عمل ہے۔ یہ ادارہ ملک کے مختلف علاقوں میں تھیٹرز کی ترویج کے لیے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک شو منعقد کرتا ہے۔حال ہی میں کراچی میں پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں اس تھیٹر گروپ کی جانب سے ایک مزاحیہ انگریزی کھیل Ooh my Proposals پیش کیا گیاجو ایک روسی کھیل سے ماخوذ ہے۔

اس ادارے کے ڈائیریکٹر فیصل ملک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں یہ کھیل بہت اہم ہے کیوں کہ ایک تو ہم نے دیکھنے والوں کو اچھی تفریح دینے کی کوشش کی ہے تا کہ وہ صرف ٹی وی دیکھنے کی بجائے تھیٹرز کا رخ کریں کیوں کہ ٹی وی پر نیوز چینلز میں بہت تناوٴ ہے ۔” تو ان چیزوں سے لوگوں کی توجہ بانٹنے کے لیے اس طرح کے شوز بہت اہم ہوتے ہیں اورپھر اس کھیل کا دوسرا مقصد لوگوں کو انگریزی کی اہمیت کا احساس دلانا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں اب ہر جگہ انگریزی میں ہی بات کی جاتی ہے اور وہ نوجوان جو اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ اس زبان کو سیکھیں اور معاشرے سے مقابلہ کر سکیں۔“

پاکستان میں تھیٹرزکو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں اس وجہ سے تھیٹر گروپس کو سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کا ہوتا ہے۔ فیصل ملک کے بقول گذشتہ حکومت نے اس پر بہت کام کیا ہے مگرحالیہ دورِحکومت میں وہ توجہ نہیں ہے جس کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ” یہ اتنا طاقت ور میڈیم ہے کہ وہ بات جو آپ ٹی وی پر نہیں کہہ سکتے وہ آپ اسٹیج میں ڈھکے چھپے لفظوں میں کہہ جاتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ جن ممالک میں تھیٹر بہت زیادہ ہے وہاں یہ ان کے مذہب کا حصہ ہو۔ آپ مصر جائیں وہاں بے تحاشہ تھیٹرز ہیں تو پھر ہمارے ملک میں کیوں نہیں یہ بڑھ سکتے۔

کراچی کو پاکستان کا اقتصادی مرکز تصور کیا جاتا ہے جب کہ لاہور کو ثقافت کا گڑھ۔ لیکن فیصل ملک کا کہنا ہے کہ ملک میں میڈیا کے فروغ کے باعث صورت حال اب تبدیل ہو رہی ہے کیوں کہ تقریباً سارا میڈیا اس وقت کراچی میں ہے۔یہاں لوگوں کو باآسانی اسپانسر بھی مل جاتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ تھیٹر شوز کی تعداد کراچی میں بڑھ رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہماری حکومت بالخصوص وزارتِ ثقافت کو اس میڈیم پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیئے۔ کون کہتا ہے کہ یہ غلط ہے یہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہے اور حکومت کو اس میڈیم کو معاشرے کی اصلاح کے لیے ضرور آزمانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG