رسائی کے لنکس

کراچی میں جرائم میں اضافے پر شہری پریشان


کراچی میں جرائم میں اضافے پر شہری پریشان

کراچی میں جرائم میں اضافے پر شہری پریشان

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور اقتصادی مرکز ہونے کے با وجود بد امنی سے سب سے زیادہ متاثر رہتا ہے۔ یہاں شہری اور کاروبار حضرات کبھی تو ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے متاثر ہوجاتے ہیں تو کبھی بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ان کا جینامشکل کر دیتی ہیں۔

اگر چہ رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن اور سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں قتل و غارت گری پر از خود نوٹس کی سماعت اور فیصلے کے بعد سے کراچی میں خوں ریزی کا سلسلہ رک گیا ہے لیکن تقریباً تین ماہ کی اس خاموشی کے بعد کراچی ایک بار پھر بدامنی کے حوالے سے خبروں میں ہے اور اس بار وجہ بنی ہے اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں جس میں گزشتہ چند روز میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران شہر میں دو بینک لوٹ لئے گئے ۔ اس دوران دیگر مختلف وارداتوں میں متعدد شہری دن دہاڑے لاکھوں روپے سے بھی محروم ہو گئے ۔

ادھر صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے ان واقعات پر قابو پانے کے لیے جمعہ کو ایک اجلاس ہوا جس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ منظور وسان نے کہا کہ حکومت نے ان واقعات سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوٹ مار کی وارداتوں میں مختلف لسانی اور فرقہ وارانہ گروہ بھی ملوث ہیں جن پر قابو پانا دشوار ہے لیکن پولیس اور رینجرز دہشت پھیلانے والے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر کے عوام کو مثبت نتائج دیں گے ۔

بینک میں ڈکیتیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے بینکوں کو فراہم کیے گئے سکیورٹی گارڈز بھی ان کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں تاہم اب ان کو ملازمت دینے سے پہلے پولیس کی طرف سے جانچ پڑتال اور تصدیق لازمی ہو گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسٹریٹ کرائمز میں کچھ پولیس اہلکار بھی ملوث پائے گئے ہیں جس پر منظور وسان کا کہنا تھا کہ جو پولیس اور رینجرز کے اہلکار ان وارداتوں میں ملوث ہوئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی ۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے لئے عموماً موٹر سائیکل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ تاہم صوبائی وزارت داخلہ نے جرائم پر قابو پانے اور ماہ محرم کے پیش نظر جمعہ سے شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر ایک بار پھر غیر معینہ مدت تک کے لئے پابندی عائد کردی ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن لوٹ مار کی وارداتوں میں کمی نظر نہیں آتی جب کہ جرائم کی ان وارداتوں میں مزاحمت پر کئی افراد زخمی یا پھر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG