رسائی کے لنکس

نامعلوم افراد کی جانب سے ہر روز اندھا دھند فائرنگ ہوتی رہی، جس کے نتیجے میں سیاسی و دینی جماعتوں کے کارکنان، علما ، پیشہ ور افراد، ماہرین اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوتے رہے: اطلاعات

کراچی میں منگل کو عید کے موقع پر بھی مبینہ ٹارگٹ کلنگ اور لاشیں ملنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور تین افراد اس کا شکار ہوگئے۔ منگل کو لیاری میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا، جبکہ کورنگی سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ لیاقت آباد میں شیش محل ہوٹل کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

آج کے ان واقعات کے بعد 30جون سے 29جولائی کے درمیان مرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 129 ہوگئی۔

جون کی 30تاریخ سے ہی پاکستان میں رمضان کا آغاز ہوا تھا۔ امید کی جارہی تھی کہ اس مہینے کے تقدس میں ٹارگٹ کلنگ رک جائے گی۔ لیکن ایسا ہرگز بھی نہ ہوسکا۔ مبینہ طور پر، نامعلوم افراد کی جانے سے ہر روز اندھا دھند فائرنگ ہوتی رہی، جس کے نتیجے میں سیاسی و دینی جماعتوں کے کارکنان، علما، پیشہ ور افراد، ماہرین اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوتے رہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے کی جانب سے روزانہ پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر جمع کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ، رمضان کے ابتدائی اور درمیانی عشروں کے دوران 40، 40 جبکہ آخری عشرے میں 48اور عید کے روز تین افراد ہلاک ہوئے۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں 22جولائی کو ہوئیں، جس دن 9افراد ہلاک ہوئے۔ ابتدا میں خواتین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا۔ مگر معاملہ یہ نہیں رہا۔ ان خواتین میں 26جولائی کو ہلاک ہونے والی ایک لیڈی کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

رینجرز کا موٴقف
ان ہلاکتوں سے متعلق ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اخترکا کہنا ہے کہ ’اس بدامنی کی ذمہ دار کچھ سیاسی جماعتیں، لیاری گینگ وار، جرائم پیشہ افراد اور کالعدم تنظیمیں ہیں جن کے خلاف آپریشن اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ جب سے چارج سنبھالا ہے جرائم پیشہ افراد کے خلاف مسلسل ایکشن میں ہیں اور ان کی کمر توڑنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘

مقامی میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ اگر مجرموں کو بر وقت سزائیں دی جائیں، تو بہت جلد امن قائم ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG