رسائی کے لنکس

سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آرمی چیف سیاسی قیادت سے مل کر قیام امن کی کاوشوں میں مصروف ہیں

کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاک فوج کو بھی تشویش ہے، اسی وجہ سے آرمی چیف اِن دنوں سیاسی قیادت سے مل کر قیامِ امن کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

بعض سیاسی حلقوں، تجزیہ نگاروں اور آزاد خیال مبصرین کے مطابق، آرمی چیف کی گزشتہ تین روز کی سرگرمیوں اور صدر کی اچانک کراچی آمد کا جائزہ لیا جائے تو سیاسی قیادت کے ساتھ فوج کی کراچی کے حالات میں دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے کسی شہر میں امن و امان کی صورتحال ہو، قدرتی آفات ہوں یا پھر سیاسی بے یقینی، ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہی تمام نظریں فوج پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور اس پر فوج کے رد عمل کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے۔

رواں سال کے آغاز سے ہی کراچی میں قتل و غارت گری اور اس پر وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے بیانات جن میں وہ اسے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش قرار دیتے رہے خاصی توجہ کا مرکز تھے۔ سانحہ عباس ٹاوٴن کے بعد رحمٰن ملک کے بیانات کافی حد تک درست محسوس ہوئے۔

اس تمام تر تناظر میں، آ رمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو اچانک کراچی کا دورہ کیا اور کور ہیڈ کوارٹر میں شہر میں امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز، اعلیٰ رینجرز و پولیس افسران اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی اور کراچی میں امن و امان سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔

جمعرات کو آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں اگرچہ پاک فوج کے ترجمان کے ذریعے تو کراچی سے متعلق کوئی اہم بات سامنے نہیں آسکی۔ تاہم، ملکی میڈیا میں اس حوالے سے مختلف خبریں شائع ہوئیں جن کے مطابق کانفرنس میں کراچی میں امن کی بدترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہر کو فوری طور پر اسلحے سے پاک کرنے کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

جمعرات کو ہی آرمی چیف کی صدر آصف علی زرداری سے بھی اہم ملاقات ہوئی۔اگر چہ ملاقات میں کراچی سے متعلق کیا بات ہوئی یہ تو سرکاری سطح پر نہیں بتایا گیا۔ تاہم، جمعہ کو جس طرح صدر آصف علی زرداری کراچی پہنچے اور پھر سیاسی و انتظامی ذمے داران کے ساتھ سر جوڑے اس کے بعد حالات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

سرکاری میڈیاکے مطابق صدر آصف علی زرداری نے اجلاس میں واضح کیا کہ کراچی کا امن کسی صورت خراب کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔

صدر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، اسٹیک ہولڈرز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ مضبوط کریں، اور کراچی میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مبصرین کراچی کے امن کو آئندہ انتخابات کیلئے ناگزیر قرار دے رہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں آرمی چیف اور صدر آصف علی زرداری کا کردار انتہائی خوشگوار خیال کیا جا رہا ہے۔

سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آرمی چیف سیاسی قیادت سے مل کر قیام امن کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔
XS
SM
MD
LG