رسائی کے لنکس

کراچی: ہنگامے، احتجاجی مظاہرے، 24گھنٹوں میں 13ہلاک


عمران خان کے الطاف مخالف بیان پر کراچی اور حیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے، پُرتشدد واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا

کراچی میں پی ٹی آئی کی رہنما زہرہ شاہد کے قتل کے بعد سے شروع ہونے والی ہنگامہ خیزی میں مزید تیزی آگئی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس قتل کا الزام براہ راست متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین پر لگایا تھا جس کے خلاف پیر کو ناصرف کراچی بھر میں بلکہ سندھ کے دوسرے سب سے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اس دوران کراچی میں 24گھنٹوں کے دوران 13افراد فائرنگ اور پُرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے۔ جن علاقوں میں پیر کو یہ واقعات پیش آئے اُن میں لاندھی، اورنگی ٹاوٴن، کھوکھرا پار، صفورہ چوک، نیو چالالی، ڈینسوہال اور جناح ٹرمینل شامل ہیں۔

مرنے والوں میں قوم پرست جماعت کے عہدیدار قاسم چانڈیو اور سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بقول، ’الطاف حسین کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے عمران خان نے اُن کا نام لیا‘۔

وہ زہرہ شاہد کے سوئم میں شرکت کی غرض سے پیر کو کراچی پہنچی تھیں۔ ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنان اس قتل کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج کریں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پیر کو الطاف حسین کے خلاف عمران خان کے بیانات پر ٹاور سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں دھرنے دیئے گئے۔ دھرنوں سے ایم کیوایم کے رہنماوٴں وسیم آفتاب، ڈاکٹر صغیر احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔

کراچی کے ساتھ ساتھ حیدرآباد میں بھی احتجاجی دھرنے ہوئے۔ پریس کلب کے سامنے ہونے والے دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکا کا مطالبہ تھا کہ جب تک عمران خان معافی نہیں مانگیں گے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
XS
SM
MD
LG