رسائی کے لنکس

پولیس نےاتوار کو بھی شہر کے مختلف حصوں میں فائرنگ کے واقعات میں کم ازکم سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی

حالیہ چند برسوں کے دواران، قومی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز کہلانے والے شہر کراچی میں لوگوں کو لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

پولیس نےاتوار کو بھی شہر کے مختلف حصوں میں فائرنگ کے واقعات میں کم ازکم سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

سب سے زیادہ افراد مشرف کالونی میں ہاکس بے کےقریب دو جرائم پیشہ گروہوں کی آپس کی دشمنی کا نشانہ بنے۔ تفصیلات کےمطابق موٹر سائیکلوں پر سوار درجنوں افراد نے فائرنگ کر کے مخالف گروہ کے چار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

باقی کی ہلاکتیں لیاقت آباد اور لیاری کے علاقوں میں ہوئیں۔ اِن میں قتل کیا جانے والاایک پولیس افسر کا بھتیجا بھی شامل ہے، جسے اغوا کرنے کے بعد اُس کی لاش سڑک کے کنارے پھینک دی گئی۔

ملک میں انسانی حقوق کی صف اول کی تنظیم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ کراچی میں اِس سال اب تک 750 افراد قتل کیے جاچکے ہیں، جِن میں 100 سے زائد سیاسی کارکن ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ شہر میں مختلف واقعات میں 250سےز ائد لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ گزشتہ سال بھی کراچی میں1800 سے زائد افراد تشدد کی اِس لہر کا شکار ہوئے تھے، مگر اُن میں سے اکثریت کا کسی سیاسی جماعت یا تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔

صوبائی اور وفاقی حکام تمام تردعوؤں کےباوجود نہ تو حالات کوبہتر کرسکے ہیں اور نہ اِن واقعات میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کے اکثر علاقوں میں انتظامیہ کا کنٹرول نہ ہونے کےبرابر ہے اور شہر مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے زیر اثر حلقوں میں تقسیم ہو کر رہا گیا ہے، جہاں ایک گروہ یا جماعت کے کارکن دوسرے کے علاقے میں خوف کے مارے قدم نہیں رکھتے۔

شہر کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نشنل پارٹی ہر ایک نے اپنے مسلح دھڑے تشکیل دے رکھے ہیں جو کراچی میں اپنی جماعت کا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے مخالفین کے خلاف مہلک کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیوایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی تینوں اِس وقت سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ ہیں، مگر اِس کے باوجود، اِن کے راہنما تشدد، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

ماضی کے برعکس، اِس سال شہر میں آباد سندھی اور بلوچ برادری سےتعلق رکھنے والوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ جو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کے مطابق ایک نیا اور پریشان کُن رحجان ہے۔

کراچی میں حالیہ ہفتہ کے دوران مہاجر صوبے کی تحریک نے سراُٹھایا ہے، جس کی بظاہر تو ہر سیاسی جماعت نے مذمت اور اِس سے لاتعلقی کا اظہار کیا، مگر سندھی قوم پرست جماعتوں کا الزام ہے کہ اِس کے پیچھے ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔ تاہم، متحدہ کے راہنما اِن الزامات کی نفی کرتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG