رسائی کے لنکس

کراچی میں سابق ایم این اے سمیت 13 افراد ہلاک

  • عمیر ریاض

کراچی میں سابق ایم این اے سمیت 13 افراد ہلاک

کراچی میں سابق ایم این اے سمیت 13 افراد ہلاک

کراچی میں جاری پرتشدد واقعات میں بدھ کے روز شہر میں حکمران جماعت کے ایک رہنما سمیت 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں کراچی کے قدیمی علاقے لیاری کے پانچ نوجوان بھی شامل ہیں جنہیں اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔

تشدد کے تازہ ترین واقعہ میں شہر کے علاقے کھارادر میں بدھ کی شام نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما سمیت چار افراد کو قتل کردیا۔ جبکہ لیاری میں دو گروپوں کے درمیان تصادم میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پی پی پی کے رہنما اور سابق رکنِ اسمبلی واجہ کریم داد پر نامعلوم مسلح افرادنے اس وقت فائرنگ کردی جب وہ افطار کے لیے ایک ہوٹل پر بیٹھے تھے۔ فائرنگ میں پی پی پی رہنما کے علاوہ تین مزید افراد بھی ہلاک ہوگئے جبکہ چھ زخمیوں کو نزدیکی سول اسپتال پہنچایا گیا۔

اس سے قبل بدھ کی صبح شہر کے مختلف علاقوں سے چھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق پی ای سی ایچ ایس، طارق روڈ، سولجر بازار اور صدر کے علاقوں سے برآمد ہونے والی پانچ لاشیں کراچی کے علاقے لیاری کے رہائشی نوجوانوں کی ہیں جنہیں گزشتہ شب اغواء کیاگیا تھا۔ ملیر ندی سے برآمد ہونے والی ایک نوجوان کی لاش کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تما م افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

لیاری میں کشیدگی

ادھر لیاری میں بیک وقت پانچ جنازے اٹھنے کے بعد علاقے کی صورتِ حال شدید کشیدہ ہے اور کئی علاقوں سے فائرنگ اور جلائو گھیرائو کی اطلاعات ہیں۔

بدھ کی دوپہر پانچ مقتول نوجوانوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ لیاری کے فٹبال گرائونڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد علاقے کے سینکڑوں رہائشیوں نے لاشوں کے ہمراہ وزیرِاعلیٰ ہائوس تک مارچ کیا۔

ڈنڈا بردار مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سڑک پر کھڑی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے وزیرِاعلیٰ ہائوس پہنچے اور دھرنا دیا۔ مظاہرین قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کئی مشتعل نوجوانوں نے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ واضح رہے کہ لیاری کو پی پی پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر بعض افراد نے ذرائع ابلاغ کو بتا یا کہ لیاری سے گزشتہ روز کل 14 افراد اغواء کیے گئے تھے جن میں سے نو تاحال لاپتہ ہیں اور پولیس اور رینجرز ان کی بازیابی کے لیے کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہی۔ تاہم پولیس نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

بعد ازاں مظاہرین کے رہنمائوں اور سندھ کے صوبائی وزیرِاطلاعات انعام شرجیل میمن کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین نے اپنا دھرنا ختم کردیا۔

صوبائی وزیر نے صحافیوں کو بتایا کہ اہلِ علاقہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ نوجوانوں کے اغواء اور قتل کی واردات کا مقدمہ 24 گھنٹوں میں درج کرلیا جائے گا اور ملزمان کو جلد گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی صوبائی حکومت کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرر ہی ہے۔

جلائو گھیرائو، راکٹ، دستی بم حملے

نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد لیاری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں صورتِ حال سخت کشیدہ ہے اور علاقہ میں فائرنگ، دستی بم اور راکٹ حملوں میں تین افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری سمیت شہر کے دیگر قدیمی علاقوں میں چھ گاڑیوں کوبھی نذرِ آتش کردیا گیا ہے۔

بدھ کی شام نامعلوم افراد کی جانب سے فائر کیے گئے چار راکٹ لیاری کے قدیمی علاقے بھیم پورہ میں مختلف عمارتوں سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور چار خواتین اور ایک بچے سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔

علاقہ پولیس کےمطابق راکٹ نیپئر پولیس لائن کے نزدیک واقع عمارات سے داغے گئے جو بھیم پورہ کے مختلف علاقوں میں گرے۔ پولیس کے مطابق علاقے میں نامعلوم مسلح ملزمان کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔

سیتل داس کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک احاطے پر دستی بم سے حملہ بھی کیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

تاجروں کا بھتہ خوری کے خلاف احتجاج

ادھر شہر کے تاجروں کی ایک نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرائِم پیشہ افراد کی جانب سے تاجروں کو بھتہ دینے پر مجبور کرنے کا سلسلہ 48 گھنٹوں میں نہ روکا گیا تو شہر کے تاجر کاروبار بند کردیں گے۔

'کراچی ٹریڈرز یکشن کمیٹی' نے اپنے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں اور دکان داروں کو بھتے کی پرچیاں بھجوانے کا سلسلہ 48 گھنٹوں میں روکا جائے ورنہ شہر کے تاجر مارکیٹیں اور بازار بند کردیں گے۔

بیان کے مطابق بھتہ وصولی سے تاجر برادری پریشانی کا شکار ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرے۔

XS
SM
MD
LG