رسائی کے لنکس

لیاری : ڈھائی ماہ میں پانچواں ناکام آپریشن ، صورتحال نہایت گمبھیر


اس علاقے میں پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کی آنکھ مچولی اور مختلف گروپوں میں تصادم گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور بدقسمتی سے جانی و مالی نقصان بھی بہت ہوچکا ہے

کراچی کے علاقے لیاری میں قیام امن حکومت کے لیے سب سے بڑا درد سر بن گیا ہے۔ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گزشتہ ڈھائی ماہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پانچ بڑے آپریشن کیے جن میں 20 ہلاکتیں ہوئیں مگر حالات جوں کے توں ہیں۔

اس علاقے میں پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کی آنکھ مچولی اور مختلف گروپوں میں تصادم گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور بدقسمتی سے جانی و مالی نقصان بھی بہت ہوچکا ہے۔ لیکن، اس تمام تر صورتحال میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پولیس و رینجرز کوئی بڑایا خاطر خواہ آپریشن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ہر بار تنگ گلیوں میں مسلح افراد ان کا استقبال کرتے ہیں ، مقامی لوگوں کا احتجاج ہوتا ہے ، اوپر سے سیاسی پریشر آتا ہے اور نتیجہ وہی ۔۔ڈھاک کے تین پات ۔۔نکلتا ہے یعنی اہلکاروں کے ہاتھ کچھ نہیں لگ پاتا۔

صدر آصف علی زرداری نے تین روز قبل دورہ کراچی کے موقع پر بلاول ہاوٴس میں اہم اجلاس طلب کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو ہدایت کی کہ لیاری کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کر دیا جائے، حالانکہ لیاری کو ہمیشہ سے پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور صدر زرداری اسی حلقے سے آئندہ انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کو انتخابات لڑانے کی خواہش بھی ظاہر کر چکے ہیں۔

صدر کی ہدایت پر جمعہ کو ایک مرتبہ پھرپولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اس علاقے میں آپریشن شروع کیا تو حالات پہلے سے برعکس نظر نہیں آئے۔ چیل چوک پر پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا گیا اور علاقہ فائرنگ سے گونجتا رہا۔پولیس سارا دن علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی رہی اور ان پر دستی بموں سے حملے ہوتے رہے۔ جمعہ کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں چھ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ علاقے میں شدید کشیدگی بھی برقرار ہے۔

لیاری کے عوام اور میڈیا کیلئے یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ گزشتہ ڈھائی ماہ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وقفے وقفے سے پانچ مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کیلئے اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ہر مرتبہ انہیں علاقہ مکینوں کی جانب سے سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور اگر وہ اپنی کوشش میں تھوڑی دیر کیلئے کامیاب بھی ہوئے تو ان پر راکٹوں اور دستی بموں سے حملے ہوئے اور وہ واپس ہونے پر مجبو ر ہو گئے۔

رواں سال کا پہلا بڑا ٹارگٹڈ آپریشن 15 فروری کو اس وقت ہوا جب بلدیہ ٹاوٴن اور لیاری میں مقامی تنظیم کچھی رابطہ کمیٹی کے دو کارکنان کوقتل کردیا گیا۔ آپریشن دو روز تک جاری رہا لیکن آخر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مختلف وجوہات کے باعث آپریشن روکنا پڑا۔

ایک ماہ آٹھ دن کے بعد 23 مارچ کو پھر اس علاقے میں اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور دو روز تک جدوجہد کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔ 10 روز بعد یعنی دو اپریل کو کالعدم تنظیم کا ایک کارکن ہلاک ہونے کے بعد فسادات شروع ہوئے اور قانون حرکت میں آیا۔تقریباً دو روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، لیکن نتیجہ پھر وہی رہا۔

13اپریل کو نیا آپریشن شروع ہوا۔ پھر وہی مظاہرے ، وہی راکٹ اور وہی صورتحال سامنے آئی جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے لیکن نتیجہ کچھ برآمد نہ ہوا۔جمعہ کو ایک مرتبہ پھر آپریشن شروع ہوا اور چھ ہلاکتیں ہوئیں لیکن پولیس پھربھی علاقے میں داخل ہونے سے رہ گئی۔ جواب میں اسے دستی بموں اور شدیدفائرنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کررہی ہے کہ اب یہاں آپریشن سے بڑھ کر کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ کچھ ایسا جس میں نہ سیاسی دباوٴ سامنے آئے اور نہ ہی مزاحمت۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG