رسائی کے لنکس

کراچی : بدامنی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت


کراچی : بدامنی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت

کراچی : بدامنی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کراچی میں بدامنی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت منگل کو بھی جاری رکھی۔ ایسے میں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس خصوصی بینچ کے سامنے صوبہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کو بھی طلب کیا جائے تاکہ وہ کراچی میں بدامنی سے متعلق شواہد پیش کریں ۔

ذوالفقار مرزا نے دو روز قبل اتوار کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی وزارت اور پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر ہاتھوں میں قرآن لیے یہ الزام عائد کیا تھا کہ کراچی میں قتل و غارت گری میں شہرکی سب سے بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ملوث ہے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک بھی خونریزی کے اس عمل میں شریک ہیں ۔

حکمران پیپلزپارٹی نے ذوالفقار مرزا کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی نائب صدارت کے عہدے سے اُن کا استعفی بھی منظور کر لیا ہے ۔ جب کہ ایم کیوایم کے رہنماء فیصل سبزواری نے منگل کو رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مستر د کردیا ہے ۔ لیکن ذوالفقار مرزا اپنے لگائے گئے الزامات پر بدستور قائم ہیں ۔

دریں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سماعت کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے سینیئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے اپنے دلائل پیش کیے ۔ سماعت کے بعد کمرہ عدالت کے باہر حفیظ پیرزادہ نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے اُنھیں ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی میں جرائم کی شرح میں کمی اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر تجاویز مرتب کر کے عدالت میں پیش کریں ۔

حفیظ پیرزادہ کے بقول جج صاحبان نے حکومت سے بہت سخت اقدامات اُٹھانے کو بھی کہا جس پر اُن کا کہنا تھا کہ امن کا قیام حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں وہ حکومت کا ردعمل آئندہ سماعت کے موقع پر پیش کریں گے ۔ مقدمے کی آئندہ سماعت سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں پانچ ستمبر کو ہو گی۔

XS
SM
MD
LG