رسائی کے لنکس

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری ، تین روز میں 26 افراد ہلاک

  • عمیر ریاض

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تازہ واقعات لانڈھی ، میٹرول، گلستانِ جوہر، کورنگی، اورنگی، کینٹ اسٹیشن، ریڑھی گوٹھ، نیو کراچی اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں پیش آئے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ سے چھ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلیے شہر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

کراچی میں بدھ کے روز فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ میں مزید 8 افراد کی ہلاکت کے بعد شہر میں گزشتہ تین روز سے جاری پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جبکہ ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہیں۔

پیر کی رات وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے صوبائی حکومت کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور شہر کے حالات بہتر بنانے کیلیے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت ملنے کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب فائرنگ اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات جاری رہے ۔ فائرنگ کے واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تازہ واقعات لانڈھی ، میٹرول، گلستانِ جوہر، کورنگی، اورنگی، کینٹ اسٹیشن، ریڑھی گوٹھ، نیو کراچی اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں پیش آئے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ سے چھ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلیے شہر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کا تازہ سلسلہ اتوار کی شام ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ ہنگامہ آرائی سے متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی آج تیسرے روز بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوپائے اور کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر معطل رہیں۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کی تعیناتی اور گشت کے بعد شہر کی صورتحال بتدریج معمول پر آرہی ہے تاہم ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پہ تاحال قابو نہیں پایا جاسکا۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں اس سال ٹارگٹ کلنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے باعث اب تک 700 سے زائد سیاسی کارکنان اور عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ آئے روز کی ہنگامہ آرائی کے باعث شہر میں تجارتی سرگرمیاں سخت متاثر ہورہی ہیں اور تاجروں اور صنعتکاروں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

رینجرز کے اختیارات میں توسیع

کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے شہر میں تعینات رینجرز کو دیے گئے خصوصی اختیارات میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔

رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کا نوٹیفیکیشن صوبائی وزارتِ داخلہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیا گیا۔ کراچی میں رینجرز کو شہر میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگز کی وارداتوں کے پیشِ نظر اس سال فروری میں پولیس کے اضافی اختیارات سونپے گئے تھے جن کی رو سے رینجرز اہلکار چھاپے مارنے، مشکوک افراد کی گرفتاری اور ان سے تفتیش کی مجاز قرار دے دیے گئے تھے۔ فروری سے اب تک رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات میں یہ چوتھی توسیع ہے۔

"ماسٹر مائنڈ" کی گرفتاری کا دعویٰ

ادھر کراچی پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے شہر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگز اور قتل کی کئی ہائی پروفائل وارداتوں کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس پی سی آئی ڈی عمر شاہد حامد کے مطابق اشتیاق نامی گرفتار ملزم پولیس کو ٹارگٹ کلنگ کی کئی وارداتوں میں مطلوب تھا۔ ملزم کو گزشتہ سال مجرمانہ ریکارڈ کے باعث پولیس سروس سے برطرف کیا گیا تھا جبکہ اس کے خلاف کئی پولیس افسران کے قتل کے مقدمات بھی موجود ہیں۔

ایس پی حامد کے مطابق ملزم پیشہ ور قاتلوں کا گروپ چلا رہا تھا جو اسکی ہدایات اور منصوبہ بندی کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کیا کرتے تھے۔

متعلقہ

XS
SM
MD
LG