رسائی کے لنکس

اتوار کو کراچی کے علاوہ حیدر آباد اور سندھ کے متعدد علاقوں سے ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

عام انتخابات سے محض دو ہفتے قبل پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید دہشت گردی کی لپیٹ ہے اور رواں ہفتے مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر اور ریلیوں کو بم حملوں سے نشانہ بنایا گیا جن میں کم ازکم 23 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

ہفتہ کی شب شہر کے دو مختلف علاقوں میں سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ اور متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر پر بم حملے کیے گئے۔

اتوار کو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی سمیت سندھ بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ زاہد قربان علوی نے دہشت گردانہ واقعات کو نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے صوبائی سربراہ سے اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے ایسے واقعات کے سدباب کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اتوار کو کراچی کے علاوہ حیدر آباد اور سندھ کے متعدد علاقوں سے ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

گزشتہ منگل اور جمعرات کو بھی کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفاتر کو بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں نو افراد ہلاک ہوئے۔ جمعہ کی شب عوامی نیشنل پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اس ہفتے متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے یوم سوگ منانے کا یہ تیسرا اعلان ہے۔
یہ تینوں جماعتوں سابقہ دور حکومت میں اقتدار کا حصہ رہ چکی ہیں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ان کی انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 11 مئی کو ہونے جارہے ہیں اور اس سے قبل امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا نگراں حکومتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ عزم کا اظہار کر چکی ہیں۔
XS
SM
MD
LG