رسائی کے لنکس

غریب بچوں کا مستقبل تابناک بنانے کیلئے نوجوانوں کی کوشش


نوجوانوں کا غریب بچوں کے لیے کھولا گیا فلاحی اسکول

نوجوانوں کا غریب بچوں کے لیے کھولا گیا فلاحی اسکول

نوجوان تنظیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار عالمی طرز کا نہیں جس کے باعث پاکستان کے نوجوان اپنا لوہا منوانے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں مفت تعلیم کو لازمی قرار دینے کا بل متفقہ طور پر منظور تو کرلیا گیا مگر ملک کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی ہزاروں بچے بنیادی تعلیم سےتاحال محروم ہیں۔

کراچی شہر میں موجود نوجوانوں کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم" پاکستان یوتھ فورم" نے ایسے غریب بچوں کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔یہ نوجوان کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں عظیم گوٹھ کی کچی بستی میں رہنے والے بچوں کو بغیر کسی معاوضے کے بنیادی تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

تنظیم کے سربراہ سید فہد علی نے منصوبے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ عظیم گوٹھ میں اسکول کو قائم کرنے کا مقصد ایسے غریب نادار بچوں کو بنیادی تعلیم دینا ہے جن کے والدین کسی پرائیویٹ اسکول کی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

’’سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیم تو دی جارہی ہے مگر وہاں تعلیم کا کوئی معیار نہیں ہے اسکول میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی استاد موجود ہیں جس کے باعث یہ بچے اسکول نہیں جاتے اس لیے ہماری یوتھ ٹیم نے اس اسکول کو چلانے کا سوچا‘‘۔

فہد علی کہتے ہیں کہ" اسکول میں ایسے بچوں کو پڑھا رہے ہیں جن کے والدین لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں، ٹیکسی یا رکشہ ڈرائیور اور دیگر مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے بچوں کو پڑھا لکھا نہں سکتے"

نوجوانوں کے اس اسکول میں 4 سے 8 سال کے 50 کے لگ بھگ بچے بنیادی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ 10 سے 15 نوجوان بغیر کسی تنخواہ کے رضاکار ٹیچر کے طور پر مفت تعلیم دے رہے ہیں ان میں طالب علم، نجی کاروبار اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت اسکول چلا رہے ہیں۔ یہ نوجوان اپنی تنظیم کے اس اسکول کو باضابطہ رجسٹرد کرانے کیلئے بھی پرعزم ہیں۔

اسکول میں رضاکار ٹیچر اریبہ نے بتایا کہ ’’ ہم بچوں کو بنیادی تعلیم کے ساتھ زندگی کے بنیادی اصول سکھا رہے ہیں تاکہ یہ بچے آگے چل کر بہتر انسان بھی بن سکیں کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ اسکول میں پڑھانے کو بھی اہمیت دیتی ہوں۔‘‘

نوجوان تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بل پاس ہوجاتے ہیں مگر تعلیم کا معیار بہتر نہیں کیا جاتا حکومت کو چاہیئے کہ وہ سرکاری اسکولوں کا تعلیمی معیار بہتر بنائے تاکہ غریب بچے بھی بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔

نوجوانوں کا غریب اور مستحق بچوں کو تعلیم دینے اور زندگی کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کر کے ایک بہترین شہری بنانے کا یہ عمل تعلیم کو عام کرنے اور معاشرے میں سدھار لانے کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔



۔
XS
SM
MD
LG