رسائی کے لنکس

حکام نے صحافیوں پر یہ واضح کردیا ہے کہ انہیں مذکورہ عمارتوں اور دیگر سرکاری اداروں میں داخلے سے قبل مرکزی گیٹ پر سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی، جس کے بعد ہی وہ عمارت میں داخل ہو سکیں گے

کراچی سمیت سندھ بھر کی تمام سرکاری عمارتوں میں صحافیوں کو داخلے کے وقت سخت سیکورٹی اور چیکنگ کا سامنا کرنا پڑے گا، اب وہ پہلے کی طرح باآسانی سرکاری دفاتر اور دیگر عمارتوں میں آجا نہیں سکیں گے۔

پاکستان کے مقامی اخبارات ’ڈیلی ٹائمز‘ اور ’پاکستان آبزور‘ کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کے نجی ٹی وی چینل’ اے آر وائی نیوز‘ کے اینکر اقرارالحسن کے سندھ اسمبلی میں کئے گئے خود ساختہ ’اسٹنگ آپریشن‘ کے بعد اٹھایا جارہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹس، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، سیشن کورٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں سیکورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے ہیں اور اب صحافیوں کو بھی ان اداروں کی کوریج کے لئے سخت سیکورٹی اور چیکنگ کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

کراچی میں سیکورٹی صرف صحافیوں اور نجی ٹی وی چینلز کے نمائندوں کے لئے بڑھائی گئی ہے۔ اب کوئی بھی صحافی کسی بھی سرکاری ادارے میں مکمل جامع جسمانی تلاشی کے بغیر داخل نہیں ہوسکے گا۔

جن اداروں میں صحافی بالخصوص کڑی نگرانی اور تلاشی کے بعد ہی داخل ہو سکیں گے ان میں گورنر ہاوٴس، وزیر اعلیٰ ہاوٴس، سندھ اسمبلی، سندھ سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ شامل ہیں۔

رپوٹوں میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے صحافیوں پر یہ واضح کردیا ہے کہ انہیں مذکورہ عمارتوں اور دیگر سرکاری اداروں میں داخلے سے قبل مرکزی گیٹ پر سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی، جس کے بعد ہی وہ عمارت میں داخل ہوسکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی سیکورٹی چیکنگ کے حوالے سے پالیسی سخت کی گئی ہے جس کا مقصد صحافیوں کو اسلحہ یا کسی اور ممنوعہ چیز سمیت حساس عمارتوں میں داخلے سے روکنا ہے۔

صحافیوں کو سندھ اسمبلی کے لئے جاری کئے گئے داخلہ پاس اسپیکر اسمبلی آغا سراج درانی کے حکم پر منسوخ کردئیے گئے ہیں۔

اقرار الحسن کی گرفتاری اور رہائی
اقرار الحسن کو گزشتہ جمعہ کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ اور ان کا ایک ساتھی سندھ اسمبلی کے کمزور سکیورٹی انتظامات کی جانب توجہ دلانے کی غرض سے اسمبلی میں پستول لے کر داخل ہوگئے تھے۔اس ’اسٹنگ آپریشن‘ پر اعتراض کے بعد انہیں حراست میں لے کر تحقیقات کی گئیں اور اگلے دن سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا۔

ان کے خلاف پی پی سی کی دفعات 452 اور 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

XS
SM
MD
LG